30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لقول محمد بالحل،نعم حمل فی الامداد مافی غایۃ البیان علی قول محمد بالحل اذا غم شوال بناء علی تحقق الخلاف الذی نقلہ المصنف وقد علمت عدمہ وح فمافی غایۃ البیان فی غیر محلہ لانہ ترجیح لما ھو متفق علیہ [1]تامل انتہی ملتقطا فعلیك بتلطیف القریحۃ فی ھذاالباب کیلا تغفل فیستزلك الاضطراب، واﷲتعالٰی اعلم بالصواب والیہ تعالٰی المرجع والماٰب۔ |
کی تصحیح میں جان چکے ہیں جو امام محمد کے قول بالحل(جواز) سے متعلق تھی، ہاں امدادیہ میں غایۃ البیان کی عبارت کو امام محمد کے قول بالحل(جواز) پر محمول کیا جائے گا جبکہ شوال کا چاند ابر آلود ہو، اس بنا پر جواختلاف مصنف نے نقل کیا ہے حالانکہ آپ نے جان لیا اختلاف نہیں، اب جو کچھ غایۃ البیان میں ہے وُہ بے محل ہے کیونکہ یہ تو متفق علیہ کو ترجیح دینا ہے، غورکرو انتہی ملتقطا اس معاملہ میں خوب باریك بینی سے کام لو تاکہ غفلت دُور ہو اور اضطراب ختم ہوجائے، واﷲتعالٰی اعلم بالصواب والیہ تعالٰی المرجع والمآب۔(ت) |
مسئلہ ١٩٨: ١٢ذی الحجہ ١٣٠٩ھ مولوی سیّد شجاعت علی صاحب از شہر کہنہ بریلی
ماقولھم رضی اﷲتعالٰی عنھم اجمعین(اﷲتعالٰی تم سے راضی ہو تمہارا قول کیا ہے۔ت) اس مسئلہ میں کہ غیر معتبر ہونا اختلاف المطالع کا جو اس عبارت تنویرالابصار سے ظاہر ہے واختلاف المطالع غیر معتبر علی المذھب فیلزم اھل المشرق برؤیۃ اھل المغرب(مطالع کا اختلاف ہمارے مذہب میں معتبر نہیں ہے تواہلِ مغرب کی رؤیت سے اہلِ مشرق پر حکم لازم ہوگا۔ت)عام ہے، شامل ہے حج واضحیہ کو، یا خاص بصوم یا بہ فطر ہے اور نیز یلزم کی ضمیر کا مرجع ثبوت ہلال عام ہے، شامل ہر حج واضحیہ کو یا صوم یا فطرہ سے خاص ہے، عام سمجھنا اس کو صواب ہے یا خطا، ایك شہر میں عید الاضحی سہ شنبہ کوہُوئی بموجب رؤیت ہلال وہاں کی، اور دوسرے شہر میں چہار شنبہ کو ہُوئی بموجب رؤیت ہلال یہاں کی، اب قربانی کرنا دوسرے شہر والوں کوجمعہ کے آخر تك کہ وہ یومِ رابع قربانی کا ہے باعتبار رؤیۃ اول کے، اور یومِ ثالث قربانی کا ہے باعتبار ثانی کے، جائز ہے یا نہیں؟بینو ابسند الکتاب توجروابیوم الحساب(کتاب کی سند کے ساتھ بیان کیجئے اور روزِ حساب اجر پائیے۔ت)فقط
الجواب:
علّامہ سیّد حلبی و علّامہ سیّد طحطاوی و علامہ سیّد شامی محشیان درمختارعلیہم رحمہ اﷲالعزیز الغفار نے ضمیر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع