30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کما فی الامداد نقل العلامۃ نوح، الاتفاق علی حل الفطرفی الثانیۃ ایضا عن البدائع والسراج و الجوھرۃ قال والمراد اتفاق ائمتنا الثلثۃ وما حکی فیہ من الخلاف انما ھو لبعض المشائخ قلت وفی الفیض،الفتوی علی حل الفطرالخ[1] ثم قال قولہ لکن الخ استدراك علی ماذکرہ المصنّف من ان خلاف محمد فیما اذاغم ھلال الفطر بان المصرح بہ فی الذخیرۃ وکذافی المعراج عن المجتبٰی ان حل الفطر ھنا محل وفاق وانما الخلاف فیما اذا لم یغم ولم یرالھلال فعند ھما لایحل الفطروعند محمد یحل قال شمس الائمۃ الحلوانی وحررہ الشرنبلالی فی الامداد قال فی غایۃ البیان وجہ قول محمد وھو الاصح ان الفطر ما ثبت بقول الواحد ابتداء بل بناءً وتبعًا الخ [2]ثم قال قولہ وفی الزیلعی الخ نقلہ لبیان فائدۃ لم تعلم من کلام الذخیرۃ وھی ترجیح عدم الفطر ان لم یغم شوال لظہور غلط الشاھد لانہ الاشبہ من الفاظ الترجیح لکنہ مخالف لما علمتہ من تصحیح غایۃ البیان |
اس کے بر خلاف تصحیح کی ہے جیسا کہ امداد میں ہے،اور علامہ نوح نے بدائع، سراج اور جوھرہ سے نقل کیا ہے کہ دُوسری صورت میں بھی بالاتفاق عیدجائز ہوگی، اور کہاکہ یہاں اتفاق سے مراد ہمارے تینوں ائمہ کا اتفاق ہے اور اس سلسلہ میں اختلاف جو منقول ہے تو وُہ بعض مشائخ کا ہے قلت فیض میں ہے فتوٰی عیدکے جواز پر ہے الخ پھر کہا قولہ لکن الخ یہ استدراك ہے اس پر جو مصنف نے کہا کہ جب موسم ابر آلود ہوتو ہلال فطر کے بارے میں امام محمد کا اختلاف ہے۔ اسی طرح ذخیرہ میں اور معراج میں مجتبٰی سے تصریح ہے کہ افطار کی حلت بالاتفاق ہے اور اختلاف اسی صورت میں ہے جب موسم ابر آلود نہ ہو اور چاند دکھائی نہ دے تو اب شیخین کے نزدیك عید جائز نہیں او ر امام محمد کے نزدیك جائز ہے، جیسا کہ شمس الائمہ حلوانی نے بیان کیا اور شرنبلالی نے امداد میں نقل کیا کہ غایۃ البیان میں کہا ہے کہ امام محمد کے قول کی دلیل اوروہی اصح ہے کہ افطار ایك شخص کے قول سے ابتداءً ثابت نہیں ہوتا بلکہ تبعًا اور بناءً ثابت ہوا ہے الخ پھر فرمایا قولہ وفی الزیلعی الخ یہ اس فائدہ کے لیے منقول ہے جو کلامِ ذخیرہ سے نہ جانا گیا اور وُہ یہ ہے کہ اگر شوال ابر آلود نہ ہو تو عدمِ افطار کو ترجیح ہوگی اس لیےکہ اس سے گواہ کا غلط ہونا واضح ہوگا کیونکہ یہ لفظ اشبہ الفاظِ ترجیح میں سے ہے لیکن یہ اس کے مخالف ہے جو آپ غایۃ البیان |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع