30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پس ہرشہر میں اپنی رؤیت، خواہ غیر شہر کی شرعًا معتبر خبر پر، جو پہلی رمضان کی قرار پائے اسی پر بنائے کا ررکھیں اور روزہ متروك ہوجانا ثابت ہوتو بعد رمضان قضا کریں اُسی یکم کے اعتبار سے شمار ثلثین کامل کرکے عید کرلیں لیکن اگر اکتیسویں شب کو باوجود صفائیِ مطلع چاند نظر نہ آئے اور ابتدائے صیام صرف ایك شاہد کی شہادت پر کی گئی ہو تو اس صورت میں تیس کے بعد عید حضرت امام اعظم وامام ابویوسف رحمۃ اﷲتعالیٰ علیہما نا روافرماتے ہیں کہ کذب اُس شاہد واحد کا ظاہر وہیں ہوگیا اور یہی مذہب و مرجح،
|
ھذا ماتحرر لنا من اقوال متشتۃ وکلمات متشوشۃ، ولنذکرطرفا من کلام الشامی فی ھذا المقام لیستبین لك ما لخصتہ عن المرام،قال العلامۃ الشارح رحمہ اﷲفی الدروبعد صوم ثلثین بقول عدلین حل الفطر وبقول عدل حیث یجوز وغم ھلال الفطر لا یحل علی المذھب خلا فالمحمد کذا ذکرہ المصنف لکن نقل ابن الکمال عن الذخیرۃ ان غم ھلال الفطر حل اتفاقا وفی الزیلعی الاشبہ ان غم حل والا لا[1]انتہی مختصرا،قال الفاضل المحشی قولہ حل الفطر ای اتفاقا ان کانت لیلۃ الحادی والثلثین متغیمۃ وکذا لومصحیۃ علی ماصححہ فی الدرایۃ والخلاصۃ والبزازیۃ وصححہ عدمہ فی مجموع النوازل والسید الامام الاجل نا صرالدین |
یہ وہ تمام گفتگو تھی جو متفرق اقوال اور تشویش میں ڈالنے والے کلمات سے اخذ کی گئی، یہاں امام شامی کی کچھ گفتگو نقل کرنا نہایت ہی مناسب ہے تاکہ وہ مقصد واضح ہوجائے جس کی خاطر میں نے یہ خلاصۃً گفتگو نقل کی ہے، علامہ شارح رحمہ اﷲتعالٰی نے در میں فرمایا جبکہ دو عادلوں کے قول سے روزہ رکھا ہوتو تیس دن کے بعد افطار حلال ہے یعنی جائز ہے اور حال یہ ہو کہ عید کے چاند کے دن ابر ہو، تو افطار حلال نہیں صحیح مذہب پر ،اس میں امام محمد کا اختلاف ہے جیسا کہ مصنّف نے ذکر کیا ہے لیکن ابن کمال نے ذخیرہ سے نقل کیا ہے کہ اگر عید کے چاند کے دن بادل وغیرہ ہوتو بالاتفاق افطار حلال یعنی جائز ہے، زیلعی میں ہے اگر چاند بادل وغیرہ کی وجہ سے دکھائی نہ دے تو عید حلال ہے ورنہ نہیں انتہی اختصارًا۔ فاضل محشی نے کہا قولہ حل الفطر یعنی اگر اکتیسویں رات ابر آلود ہوتو بالاتفاق عید جائز ہوگی، اور درایہ ، خلاصہ اور بزازیہ کی تصحیح کے مطابق اگر مطلع صاف ہوتب بھی یہی حکم ہے، مجموع النوازل میں اور السّید امام اجل ناصرالدین نے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع