30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
احوط١[1]انتھی(ملخصا)قلت وقد ذکروا ان الفتوی اٰکد من الاشبہ وان الفتوی متی اختلف رجح ظاھر الروایۃ [2] کما فی البحر والدرر و غیرھما،وفی حاشیۃ ردالمحتار للفاضل السیّد محمد امین ابن عابدین الشامی رحمہ اﷲعن الشیخ مصطفی الرحمتی الانصاری رحمہ اﷲ،ان معنی الاستفاضۃ ان تاتی من تلك البلدۃ جماعات متعددون کل منھم یخبر عن اھل تلك البلدۃ انھم صامواعن رؤیۃ ، لا مجرد الشیوع من غیر یتحدث بھا سائراھل البلدۃ ولایعلم من اشاعہ کما قد تشیع اخبار یتحدث بھا سائر اھل البلدۃ ولایعلم من اشاعھا کماورد ان فی اٰخرالزمان یجلس الشیطان بین الجماعۃ فیتکلم بالکلمۃ فیتحدثون بھا ویقولون لاندری من قالھا فمثل ھذالاینبغی ان یسمع فضلا من ان یثبت بہ حکم اھ (قال الشامی ) قلت وھو کلام حسن ویشیر الیہ قول الذخیرۃ اذااستفاض وتحقق فان التحقق لایوجد بمجرد الشیوع انتھی۔[3] |
کہتے ہیں کہ ظاہر الروایۃ پر عمل احوط ہے انتہی (ملخصًا) قلت فقہاء نے ذکر کیا ہے کہ لفظ فتوٰی لفظ اشبہ سے زیادہ مؤکد ہوتا ہے اور جب فتوٰی میں اختلاف ہوتو ظاہر الروایۃ کو ترجیح حاصل ہوگی جیسا کہ بحر، در وغیرہ میں ہے، فاضل سیّد محمد امین ابن عابدین شامی رحمہ اﷲتعالٰی نے شیخ مصطفی رحمتی انصاری رحمہ اﷲتعالٰی سے اپنے حاشیہ ردالمحتار میں نقل کیا ہے، مشہور ہونے کا معنٰی یہ ہے کہ اس شہر سے متعدد جماعتیں آئیں اور وہ تمام اس بات کی اطلاع دیں کہ وہاں لوگوں نے چاند دیکھ کر روزہ رکھا ہے محض ایسی افواہ سے نہیں جس کے پھیلانے والا معلوم نہ ہو، جیسا کہ کبھی کبھی بعض خبریں شہروں میں پھیل جاتی ہیں اور ان کے پھیلانے والا معلوم نہیں ہوتا، جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ آخری دور میں شیطان جماعت کے درمیان بیٹھ کر کوئی بات کرے گا تو لوگ اسے بیان کریں گے اور کہیں گے ہم نہیں جانتے اس کا قائل کون ہے، تو ایسی باتیں سُننا ہی مناسب نہیں چہ جائیکہ ان سے کوئی حکم ثابت کیا جائے اھ امام شامی کہتے ہیں قلت یہ تمام گفتگو نہایت ہی خوب ہے اور ذخیرہ کی یہ عبارت بھی اسی طرف اشارہ کررہی ہے جب خبر مشہور اور متحقق ہوجائے ، کیونکہ تحقق محض شہرت اور پھیل جانے سے نہیں ہوتا انتھی(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع