30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
درمختار فــــ میں ہے:
|
لا عبرۃ برؤیۃ الہلال نھارا مطلقا علی مذھب الامام الصحیح المعتمد، واما علی قول الثانی من انہ ان رأی قبل الزوال فللماضیۃ،[1] فلیس الافطار بمعنی ا نھارالصوم بل لثبوت العید عندہ بذاك ولیس ھذا معنی قولہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم صوموا لرؤیتہ وافطر والرؤیتہ والایوجب الصوم بمجرد رؤیۃ الہلال بعد المغرب وھذا واضح جدا، واﷲتعالٰی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔ |
امام کے صحیح معتمد مذہب کے مطابق ہرحال میں دن کو چاند دیکھنے کاکوئی اعتبار نہیں، مگر امام ثانی (ابویوسف) کے قول پر ہے کہ اگر زوال سے پہلے دیکھا تو یہ گزشتہ رات کا ہوگا تو اب افطار کا یہ معنٰی نہیں کہ یہ دن کے روزے کا افطار ہے بلکہ اس سے امام ثانی کے نزدیك ثبوت عید ہورہا ہے کیونکہ گزشتہ رات کا چاند ہے تو عید کی وجہ سے افطار ہے اور حضور صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے فرمان مبارك ''چاند دیکھنے پر روزہ رکھو اور چاند دیکھنے پر عید کرو'' کا معنی یہ نہیں کہ جب دیکھو تو افطار کرو ورنہ یہ لازم آئے گا کہ مغرب کے بعد محض چاند دیکھنے سے اُسی وقت روزہ لازم ہوجائے اور یہ نہایت ہی واضح ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔(ت) |
مسئلہ١٩٧:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نسبت رؤیت ہلال ماہ رمضان المبارك ہندوستان میں اختلاف ہے بذریعہ اخبار ودیگر تحریر معلوم ہُوا کہ کلکتہ و دیگر جا میں رؤیت بروز دو شنبہ اور روزہ بروز سہ شنبہ ہوا و دیگر بلاد و امصار میں رؤیت بروزسہ شنبہ اور روزہ بروز چہار شنبہ اور بعض جاروز پنجشنبہ ہوا، پس اب فتوٰی علماء کا کیا ہے، آیا بحالت عدم رؤیت ہلال شوال کے روزہ رمضان چار شنبہ آئندہ کو ختم کرکے پنجشنبہ کو عید کی جائے یا بروز چہار شنبہ عید ہو؟ بینوا توجروا
فـــ:درمختار میں جو عبارت ملی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں:''ورؤیتہ بالنھار للیلۃ الاتیۃ مطلقا علی المذھب ذکرہ الحدادی،واختلاف المطالع ورؤیتہ نھارًا قبل الزوال او بعدہ غیر معتبرعلی ظاھر المذھب۔''درمختار میں لاعبرۃ الخ کے الفاظ نہیں ہیں ۔ نذیر احمد سعیدی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع