30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لا سیمافی زماننا اھ١[1] وفیہ ایضا اعنی الدرلا تقبل شہادۃ الا جیرالخاص اوالخادم اوالتابع اوالتلمیذ الخاص الذی یعد ضرر استاذہ ضرر نفسہ درر اھ [2]ملتقطا وانت تعلم ان حال کثیر من عوام الزمان مع من شیخوہ علیہم ربما یبلغ اشد و اکثر من حال النواب والامیر و المستاجر والاجیرفحیث وجد التھمۃعدم القبول والحکم ید ور مع علتہ۔ |
نہیں اور یہی ظاہر ہے خصوصًاہمارے زمانے میں اھ اور اسی در میں یہ بھی ہے کہ اجیر خاص یا خادم یا تابع یا وہ شاگرد جو استاد کی تکلیف کو اپنی تکلیف محسوس کرے، کی گواہی مقبول نہیں درر اھ اختصارًا، اور آپ جانتے ہیں کہ اس دور میں عوام کے ان لوگوں کے ساتھ جنہیں یہ اپنے شیخ بناتے ہیں بعض اوقات نواب، امیراور مستاجر اور اجیر سے زیادہ شدید ہوتے ہیں تو مقامِ تہمت میں گواہی مقبول نہ ہوگی ، اور حکم کا وَرُود اس کی علّت پر ہوتا ہے۔(ت) |
یُونہی اگر سب گواہ ظاہر الفسق وُہ لوگ کہ جماعت کے پابند نہیں یا ناجائز تماشا دیکھا کرتے یا حرام نوکری یا پیشہ رکھتے یا داڑھی حدِ شرع سے کم رکھواتے یا ریشمیں کپڑے یا سونے چاندی کے ناجائز لباس یا زیور پہنا کرتے یا ضروریات دین سے غافل بے علم جاہل ہیں کہ نماز، روزہ، وضو،غسل کے فرائض وشرائط و مفسدات سے آگاہ نہیں یا تجارت کرتے ہیں اور بیع وشراء کے ضروری احکام نہ سیکھے وعلٰی ھذاالقیاس جن مسائل کی ضرورت پڑے اُن کی تعلیم سے باز رہنے والے کہ یہ سب فسّاق مردود الشہادۃ ہیں توایسوں کی گواہی توشرع مطہر میں اصلًا معتبر نہیں،
|
فی الدرالمختار،لاتقبل شہادۃ الجاہل علی العالم لفسقہ بترك مایجب تعلمہ شرعا ومجازف فی کلامہ اویحلف فیہ کثیرا او اعتاد شتم اولادہ او غیرھم لانہ معصیۃ کبیرۃ کترك جماعۃ وخروج لفرحۃ قدوم امیرولبس حریر[3] اھ بالتقاط،وفیہ سئل القاضی عما یجب علیہ من الفرالض فان لم یعرفھا |
درمختار میں ہے جاہل شخص جو ضروری علم شرعی کے ترک، گپ بازی، زیادہ قسمیں کھانے کی عادت، اپنی اولاد اور غیر کو گالی دینے کی عادت جیسے گناہ کبیرہ، ترك جماعت، کسی حاکم کے آنے کی خوشی منانے اور ریشم پہننے جیسے امور کی وجہ سے فاسق شخص کی شہادت قبول نہ ہوگی اھ اختصارا، اور اسی میں ہے کہ قاضی کا ان چیزوں کے بارے میں امتحان لیا جائے گا جن سے اس کا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع