30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کان علی مکان مرتفع واختارہ ظھیرالدین۔[1] |
جب وہ خارج شہر سے آیا ہو یا وُہ کسی بلند جگہ پر ہو اسے ظہیرالدین نے پسند کیا ہے(ت) |
صوتِ مستفسرہ میں شاہد بغدادی میں خصوصیت مذکورہ تو بیشك ہے کہ اگر یہ بیان صحیح ہے تو ایك تو آباد ی سے دور ، دوسرے دریا کہ اُس کی ہواگر دوغبار ودُخان سے صاف تر ہوتی ہے، پھر کلکتہ کا طول بلد نہر سویز سے اتنا زائد کہ کلکتہ میں پہر بھر رات سے زائد گز رلیتی ہے تو وہاں شام ہوتی ہے ، اس مدت میں چاند آفتاب سے اور زیادہ ہٹ آئے گا اور رؤیت آسان تر ہوگی بلکہ یہ وجہ گواہِ امرتسری میں ہے کہ اقل درجہ بہتر٧٢ میل کے تفاوت طول پر ایسا فرق ممکن ہے : کما اعتمد علیہ التاج التبریزی الشامی عن شرح المنھاج للرملی۔جیسا کہ اس پر تاج تبریزی شامی نے رملی کی شرح منہاج سے نقل کرتے ہوئے اعتماد کیا ہے(ت)بس یہ دیکھنا رہا گواہ خود بھی مقبول الشہادۃ ہیں یا نہیں، اگر خصوصیت مذکورہ کے ساتھ ایك گواہ بھی مستور الحال تك ہے یعنی اس کے وضع لباس حرفت معیشت کلا م وغیرہ سے اُس کا مرتکب کبیرہ یا مصر صغیرہ یا خفیف الحرکات ہونا ظاہر نہیں ، نہ کسی دوسرے طریقہ سے اس میں یہ امور معلوم توازنجا کہ ہلال رمضان مبارك میں مستور کی گواہی بھی مقبول ہے،
|
کما نص علیہ الامام ابو عبداﷲالحاکم الشھید فی الکافی۔ |
جیسا کہ اس پر امام ابو عبد اﷲالحاکم شہید نے الکافی میں تصریح کی ہے(ت) |
اُس کی شہادت مان کر روزہ جمعہ کی قضاء کی جائے گی مگر جبکہ گواہ کی حالت اور پیر مسطور سے اُس کی شدّت عقیدت پر نظر کرنے سے وہ اس کی بات سچّی بنانے پر متہم ٹھہرتا ہو جیسا کہ آجکل بہت لااُبالی لوگوں کا اپنے ساختہ مشائخ کے ساتھ حال ہے تو البتہ اس کی گواہی نہ سُنی جائے گی کہ تہمت بھی اسباب ردِّشہادت سے ہے،
|
فی الدرالمختار امیر کبیرادعی فشہد لہ عمالہ وتوابعہ ورعایا ھم لاتقبل اھ[2] قال العلامۃ الرملی یؤخذ منہ ان شہادۃ خدامہ الملازمین لہ ملازمۃ کملا زمۃ العبد لمولاہ کذٰلك لا تقبل وھو ظاھر |
درمختار میں ہے کسی بڑے امیر نے دعوٰی کیا اس کے عمال، نائبین اور رعایا اس پر گواہی دیں تو یہ مقبول نہ ہوگی اھ علامہ رملی کہتے ہیں کہ اس سے متفرع ہوجاتا ہے کہ اس کے خدام ملازمین کی گواہی اسی طرح ہے جیسے غلام کی گواہی اس کے مولٰی کے حق میں ہوتو وہ بھی مقبول |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع