30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بعددعلی المذھب وعن الامام انہ یکتفی بشاھدین واختارہ فی البحر اھ [1]ملخصا فی رد المحتار قولہ وھو مفوض قال فی السراج الصحیح انہ مفوض الی رأی الامام ان وقع فی قلبہ صحۃ ماشھدوابہ و کثرت الشہودامر بالصوم اھ کذاصححہ فی المواھب وتبعہ الشرنبلالی وفی البحر عن الفتح والحق ان العبرۃ بمجئ الخبروتواترہ من کل جانب اھ وفی النھر انہ موفق لما صححہ فی السراج تامل، قولہ واختارہ فی البحر حیث قال وینبغی العمل علٰی ھذہ الروایۃ فی زماننا لان الناس تکاسلت عن ترائی الاھلۃفانتفی قولہم مع توجھھم طالبین لماتوجہ ھو الیہ فکان التفرد غیر ظاھر فی الغلط الخ [2]اھ ملخصا۔ |
، کی تعداد کا کوئی تعین نہیں بلکہ قاضی کی رائے پر منحصر ہے اور امام سے یہ بھی مروی ہے کہ دو گواہ کافی ہیں، بحر میں اسے اختیار کیا گیا ہے اھ ملخصًا ردالمحتار میں قولہ مفوض، سراج میں ہے کہ یہی صحیح ہے کہ قاضی کی رائے پر منحصر ہے کہ اگر گواہی اور کثرتِ شہود کی بنا پر اس کے دل میں اس کی صحت کا یقین ہوجائے تو وہ روزے کا حکم دے اھ مواہب میں اسی کی تصحیح کی ہے، اور اسی کی اتباع شرنبلالی نے کی ہے، اور بحر میں فتح سے ہے کہ حق یہ ہے کہ ہر جانب سے خبر کے آنے اور تواتر سے اس کے ثبوت کا اعتبار ہے اھ اور نہر میں ہے کہ یہ اسی کے موافق ہے جس کی تصحیح سراج میں ہے تامل، قولہ بحر نے اسی کو اختیار کیا ہے، عبارتِ بحر یہ ہے ہمارے زمانے میں اس روایت پر عمل ہونا چاہئے، کیونکہ لوگ چاند دیکھنے میں سُستی کرتے ہیں، تو اس سے فقہاء کا ایك شخص کے دیکھنے اور اس کی خبر کو رد کرنے کے متعلق یہ قول کہ کثیر لوگوں کی طلب و تلاش کے باوجود وہاں ایك شخص کو نظر آتا ہے تو اس ایك کی خبر کا غلط ہونا غیر ظاہر ہے، ختم ہوجاتا ہے الخ اھ ملخصا(ت) |
مگر راجح یہ ہے کہ جب شاہد میں کوئی خصوصیتِ خالصہ ایسی ہوجس سے اُس کا دیکھنا اور اوروں کو نظر نہ آنا مستبعد نہ رہے، مثلًا عام لوگ شہر میں تھے اس نے جنگل میں دیکھا یا وُہ زمین پر تھے اس نے بلندی پر دیکھا تو دربارہ ہلال رمضان المبارك ایسے ایك کی بھی گواہی مقبول ہوگی جبکہ وُہ شرعًا قابل قبول شہادت ہو،
|
فی الدرالمختار وصحح فی الاقضیۃ الاکتفاء بواحدان جاء من خارج البلد ا و |
درمختار میں ہے اور الاقضیۃ میں صحیح قرار دیا ہے کہ ایك کی گواہی پر اکتفاء کر لیا جائے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع