30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آج تیس٣٠ ہے مجرد حکایت ہے کہ شرعًامقبول نہیں۔
|
فی الدرالمختار لا لو شھد وابرؤیۃ غیرھم لانہ حکایۃ۔[1] |
درمختار میں ہے اگر غیر کے دیکھنے پر گواہی دی تو مقبول نہ ہوگی کیونکہ یہ حکایت ہے(ت) |
مولوی احسان کریم صاحب تنہا ہیں اور ہلالِ شعبان میں ایك کی گواہی معتبر نہیں۔فی ردالمحتار،
|
وبقیۃ الاشھر التسعۃ فلا یقبل فیھا الا شہادۃ رجلین اورجل و امرأتین عدول احرار غیر محدودین کما فی سائرالاحکام۔[2] |
ردالمحتار میں ہے باقی نو مہینوں کے ثبوت کے لیے ایك کی گواہی معتبر نہیں بلکہ دومرد یا ایك مرد اور دوخواتین جو عادل، آزاد ہوں اور حدِ قذف ان پر نافذ نہ ہوئی ہو جیسا کہ دیگر احکام میں ہے۔(ت) |
حافظ حبیب الحسن صاحب کابیان اور مولوی شکر اﷲصاحب کی دوسری تقریر بالفرض اگر شہادت علی الشہادت مانی جائے تو عدد ناقص،
|
فی ردالمحتار لا تقبل مالم یشھد علی شہادۃ کل رجل رجلان اور جل وامرأتان۔[3] |
ردالمحتار میں ہے اس وقت تك شہادت پر شہادت قبول نہیں کی جائے گی جب تك ہر ایك شخص کی شہادت پر دو مرد یاایك مرد اور دوخواتین شہادت نہ دیں(ت) |
بالجملہ بیانوں میں ایك بھی قابلِ اعتبار شرعی نہیں حکم شرعی قاعدہ شرعیہ ہی کے طور پر ثابت ہوسکتا ، نہ مجرد خیالات پر۔ مطلع شعبان کا نہایت صاف تھا اور بہت آدمی چاند دیکھتے رہے کسی کو نظر نہ آیا، اب اگر چہ عند اﷲآج ٣٠ ہی سہی مگر شرع بے ثبوت شرعی کیونکر حکم دے ۔ واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ ١٩٥: از کلکتہ دھرم تلانمبر٦ مرسلہ جناب مرزا غلام قادر بیگ صاحب ٢٤ رمضان المبارك ١٣١١ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہاں کلکتہ میں ٢٩شعبان روز پنجشنبہ شام کو مطلع بالکل صاف تھا سب لوگوں نے چاند پر غور کیا رؤیت نہ ہوئی مگر ایك پیر صاحب نے پیش گوئی کی تھی کہ جمعہ کو یکم رمضان ہوگی اُن کے معتقدین نے بلارؤیت جمعہ سے روزہ رکھ لیا اب ایك صاحب کہ شاید بغداد شریف کے ہیں یہاں آئے، اُن پیر صاحب نے انہیں پیش کیا اپنی پیشگوئی کی تصدیق کے لیے انہوں نے اپنی رؤیت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع