30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پر زیادت کرنے والے ہوں گے کہ تراویح شرع مطہر نے شب ہائے رمضان میں رکھی ہیں اور یہ رات اُن کے لیے شبِ رمضان نہیں۔
(۷)یہ محض بے اصل ہے اور تجربہ بھی اس کے خلاف پر شاہد، اور اس پر اعتماد شرعًاہرگز جائز نہیں، والمسئلۃ فی البزازیۃ وخزانۃ المفتین وغیرھما(یہ مسئلہ بزازیہ اور خزانۃ المفتین وغیرہ میں ہے ۔ت) تمام قیاسات وحسابات وقرائن کہ عوام میں مشہور ہیں شرعا باطل ومہجور ہیں صرف انھی طریقوں پر اعتماد جائز ہے جو جوابِ سوال دوم گزرے اور ہمارے رسالہ طرق اثباتِ ہلال میں مفصل مذکور ہیں وبس۔ واﷲتعالیٰ اعلم۔
(٨)فقط اتنی خبر پر عید کرنا حرام ہے۔ فتح القدیر و بحرالرائق و عالمگیری میں ہے:
|
لو شہد جماعۃ ان اھل بلدۃ قد راؤ اھلال رمضان قبلکم بیوم فصاموا وھذا الیوم ثلثون بحسابھم ولم یرھٰؤلاء الھلال لایباح فطر غد ولا ترك التراویح فی ھذہ اللیلۃ لانھم لم یشھد وابالرؤیۃ ولا شہادۃ غیرھم وانما حکوا رؤیۃ غیرھم۔[1]واﷲتعالٰی اعلم۔ |
اگر کسی جماعت نے گواہی دی کہ فلاں اہلِ شہر نے تم سے پہلے ایك دن رمضان کا چاند دیکھا، اور انہوں نے روزہ رکھا، ان کے حساب سے آج کا دن تیسواں ہے جبکہ خود ان لوگوں نے چاند نہیں دیکھا تھا تو ان کو آئندہ دن کا روزہ چھوڑ نا جائز نہیں، اور نہ ہی اس رات کی تراویح کو ترك کرنا مباح ہوگا کیونکہ گواہوں کی چاند کی رؤیت پر گواہی نہیں، اور نہ غیر کی شہادت پر گواہی ہے بلکہ اُنہوں نے صرف غیر کی رؤیت حکایت کی ہے۔واﷲتعالٰی اعلم۔(ت) |
(٩) جب تك رؤیت نہ ہویا ثبوت صحیح شرعی سے ثابت نہ ہو ہر مہینہ تیس کالیا جائے گا۔ رسول اﷲصلی ا ﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
فان غم علیکم فاکملواالعدّۃ ثلاثین۔[2] |
چاند تم پرپوشیدہ رہے توتیس٣٠ کی گنتی پُوری کرو(ت) |
یہ قاعدہ کہ ایك مہینہ ٣٠ اور ایك ٢٩ کا محض باطل ہے جس کے بطلان پر مشاہدہ شاہد عادل ہے کئی کئی مہینے متواتر ٣٠ کے ہوجاتے ہیں کئی کئی ٢٩ کے ، اور علمِ ہیئت کی رُو سے ٤مہینے پے درپے ٣۰کے ہوسکتے ہیں اور تین ۲۹ کے،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع