30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فتوٰی دیا جاسکتا ہے کہ رؤیت ہلال کی شہادت کے لیے کسی عزیز کا خط جو اس کی طرز عبارت اور رات دن کی تحریر سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ضرور اسی کا خط ہے معتبر ہوسکتا ہے یا نہیں؟
(٢) اگر کسی دینی معاملہ میں خط معتبر نہ ہوگا جو علماء دُور دراز سے فتوٰی تحریر کرتے ہیں اس پر کیسے اعتماد ہو؟
(٣) بالخصوص رمضان شریف کے چاند کے لیے بجائے شہادت کے صرف خبر ہی کافی ہے اس کے لیے بھی خط معتبر ہے یا نہیں؟بینو اتوجروا
الجواب:
حکم اﷲ و رسول کے لیے(جل جلالہ، وصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم) تمام کتب میں تصریح ہے:
|
الخط لایعمل بہ، الخط یشبہ الخط، الخاتم یشبہ الخاتم۔[1] |
خط پر عمل نہیں کیا جاسکتا ۔ خط، خط کے مشابہ اور مُہر مُہر کے مشابہ ہوتی ہے۔(ت) |
بیاع و صراف و مفتی کے خطوط بالاجماع مستثنٰی ہیں علی خلاف القیاس لضرورۃ الناس وماکان خلاف القیاس لا یجوز القیاس علیہ، مکاتبات ناس فیما بینھم(لوگوں کی ضرورت کے پیشِ نظر خلاف قیاس حجت ہیں اور جو خلافِ قیاس ہو اس پر قیاس نہیں کیا جاسکتا ، لوگوں کی آپس کی خط و کتابت اور چیز ہے۔ت) دوسری چیز ہیں اور امر حلال فیما بینھم وبین ربھم(ان کے اور ان کے رب کے درمیان معاملہ ہے۔ت)متون وشروح وفتاوٰی تمام کتب متعمدہ مذہب دیکھ لیے جائیں جہاں یہ گنتی کے استثنا وہ بھی بہت مباحث کے ساتھ کرتے ہیں کہیں بھی ہلال کا استثناہ ہے تو اپنی طرف سے زیادت فی الشرع کیونکر جائز ہُوئی، قاضی الشرق والغرب نے شاہد کے اپنے خط کا استثناء فرمایا جس کے ساتھ سو وجوہ مذکور ہوسکتی ہیں اور اپنے خط کا اشتباہ بغایت بعید ہے انہوں نے بھی کہیں ہلال میں خط کا اعتبار فرمایا، نبی صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ان اﷲامدہ لرؤیتہ[2] (اﷲتعالٰی نے اس کا مداررؤیت پر رکھا ہے۔ت)اور فرماتے ہیں:
|
صوموا لرؤیتہ وافطر وا لرؤیتہ۔[3] |
چاند دیکھنے پر روزہ رکھو اور چاند دیکھنے پر عید کرو۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع