30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پہنچے تو وہاں کے لوگوں کو جمعہ کو عید کرنا تھی یا نہیں اور روزے توڑ دینا ضرور تھے یا نہیں اور اس کی عام تشہیر اور دیگر بلاد میں اشاعت سے کیا مفاد تھا؟بینواتوجروا
الجواب:
وہ پرچے دیگر بلادمیں نہ بھیجے گئے، تقسیم کرنے والوں نے اسٹیشن پر بھی دئے، ان میں سے کوئی لے گیا ہوگا۔ بعض لوگوں نے پیلی بھیت کے واسطے چاہا اور ان کو جواب دے دیا گیا کہ جب تك دو شاہد عادل لے کر نہ جائیں پرچہ کافی نہ ہوگا اور بلاد بعیدہ کو کیونکر بھیجے جاتے۔ واﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ ١٨٢تا ١٨٤: از راجپوتانہ چتوڑگڑھ عبدالکریم ١٨شوال المکرم۱۳٣٤ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ان عبارات کی بنا پر
|
قال فی العیون والفتوی علی قولھما اذاتیقن انہ خطہ سواء کان فی القضاء اوالرؤیۃ او الشہادۃ فی الصك وان لم یکن الصك فی ید الشاھد لان الغلط نادر واثر التغییر یمکن الاطلاع علیہ وقلما یشتبہ الخط من کل وجہ فاذا تیقن ذٰلك جازاالاعتماد علیہ توسعۃ علی الناس۔[1] اور اما خط البیاع والصراف والسمسار فھو حجۃ وان لم یکن مصدرا معنونایعرف ظاہرابین الناس وکذٰلك مایکتب الناس فیما بینھم یجب ان یکون حجۃ للعرف۔٢ [2] |
عیون میں ہے فتوی اس وقت صاحبین کے قول پر ہے جب یہ یقین ہو کہ فلاں کا خط ہے خواہ قضاء کا معاملہ ہو یا رؤیت وشہادتِ اشٹام کا، اگر چہ اشٹام گواہ کے ہاتھ میں نہ ہو کیونکہ غلط ہونا نادرالوقوع ہے اور تبدیلی پر اطلاع ممکن ہے اور بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ تحریر دوسری تحریر کے کلیۃً مشابہ ہو تو جب اسے خط کا یقین ہوتو لوگوں پر آسانی کی خاطر اس پر اعتماد جائز ہے(ت) عام خرید وفروخت کرنے والے، سونے چاندی کا سودا کرنے والے اور دلّال کا خط تمہید، تقریر اور عنوان کے بغیر بھی حجّت ہے جو لوگوں میں واضح طور پر معروف ہیں،اور یُونہی لوگوں کی آپس کی خط وکتابت عرف کی بناء پر حجت ہونا واجب ہے۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع