30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرتے ہیں کہ ہم نے بچشمِ خود نہیں دیکھا اور جتنے اُس اطراف کے ملك آسام میں رہتے ہیں کسی نے چاند نہیں دیکھا جس وقت یہ خط آیااُس وقت جناب مولانا مولوی عبدالغفار صاحب ساکن موضع اعظم گڑھی شاگرد مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی سلسلہ مدرسہ دیوبند تشریف لائے تھے انہوں نے خط دیکھ کر فرمایا کہ دوبارہ خط سے دریافت کرو کہ اگر واقعی ان لوگوں نے چاند دیکھا توتم لوگ بھی جمعہ کی عید کرلینا پنجشنبہ کوچاہے چاند ہو یا نہ ہو اور ایك روزہ قضاء کا رکھ لینا، تو پھر جب دوبارہ لکھا گیا تو اسی مضمون کا جواب آیا کہ چاند کا دیکھنا سچ ہے ٥٠آدمیوں نے باشندہ ملك آسام کے دیکھا لہذا محض ملك آسامیوں کا دیکھنا اور بہ موجب فتوی دینے مولوی عبد الغفار صاحب یہ قابل سند ہوسکتا ہے کہ نہیں اور جمعہ کو ہم لوگ عید کرسکتے ہیں کہ نہیں، بر تقدیر نہ چاند ہونے پنجشنبہ کے عید جمعہ کو کرسکتے ہیں یا نہیں، اور واقعی ایسا ہُوا کہ پنجشنبہ کو عید کا چاند نہیں نظر پڑا، ہزاروں آدمیوں نے دیکھا اور نہ کہیں چاند دیکھنے کی خبر آئی جو لوگ کہ معتقد مولوی عبدالغفار صاحب کے نہیں تھے جبکہ دیکھا یہ لوگ نہیں مانیں گے تو محض رفع نزاع کے لیے انہی لوگوں کے ساتھ عیدجمعہ کو کرلی بغیر چاند دیکھے تفریق جماعت اور دو فریق ہوجانے کے خیال سے،لہذا ازروئے شرع کے تفصیل بالاکی تحقیق۔بینواتوجروا۔
الجواب:
دربارہ ہلال خط اور تار محض بے اعتبار،
|
قال صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم صوموالرؤیتہ وافطروا لرؤیتہ۔ [1] |
رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: چاند دیکھنے پر روزہ شروع کرو اور چاند دیکھنے پر عید کرو۔(ت) |
ہدایہ واشباہ و درمختار وغیرہ عام کتب میں ہے:الخط لایعمل بہ[2] (خط پر عمل نہیں کیا جاتا۔ت)
دیوبندی کا فتوٰی محض باطل تھا اور بغیر رؤیت یا ثبوت شرعی جمعہ کو عید کرلینا حرام تھا اور تفریق جماعت سے بچنے کا خیال خام تھا اگر کُچھ لوگ بے ثبوتِ شرعی جمعہ کو عید کرلیتے تو نہ وہ عید عید تھی، نہ وہ نماز نماز، نہ وہ جماعت جماعت، تفریق کا ہے کی ہُوئی!اب صورتِ تفریق تو نہ ہُوئی مگر حقیقۃً ابطال ہوگیا، نماز بھی گئی، سب گنہ گار ہوئے، اگر چہ واقعہ میں عید جمعہ کی تھی۔ واﷲتعالیٰ اعلم۔
مسئلہ ١٨٠: ازریاست چھتاری ضلع بلند شہر مسئولہ عبدالغفور خاں صاحب محلہ کٹرہ ١٥صفر۱۳۳٤ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ ہمارے قصبہ میں ہلال رمضان شب پنجشنبہ میں دیکھا گیا اور پنجشنبہ کاروزہ ہوا، ٢٠روز بعد مولوی ناظر حسن دیوبندی کا ایك خط بنام رئیس پہنچا جس کا مضمون یہ تھا کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع