30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مردود تھی اور اس کی بنا پر عید کرنا حرام، جن لوگوں نے اس بنا پر روزہ توڑاسخت گناہ شدید کے مرتکب ہوئے اور اس دن کی نمازِ عید بھی گناہ و مکروہِ تحریمی و ناجائز ہوئی، اور دوسرے دن نمازِ عید نہ پڑھنے سے بھی ترك واجب کے گنہ گار ہُوئے اور بعد کو ثبوت کتنے ہی کثیر ہوجائیں اُن کے اُن گناہوں کو رفع نہیں کرسکتا کہ جس وقت تك انہوں نے یہ افعال کئے ثبوت شرعی نہ تھا ان پر سے مخالفتِ حکمِ شرع کا الزام بے توبہ زائل نہیں۔ واﷲتعالیٰ اعلم
جواب سوال دوم :جن لوگوں نے اُس خبر پرعمل نہ کیا اور روزہ قائم رکھا اور دوسرے دن نمازِ عید پڑھی انہوں نے مطابق حکمِ شرع کیا، ایسا ہی کرنے کا شرعًا حکم تھا اگر چہ جمعہ ضرور روزِ عید تھا مگر وہاں نہ رؤیت نہ ثبوتِ شرعی گزرا تو اُن پر جمعہ کا روزہ ہی فرض تھا اور سینچر کی عید واجب، رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: صوموالرؤیتہ وافطروالرؤیتہ [1](چاند دیکھنے پر روزہ رکھو اور چاند دیکھنے پر عید کرو۔ت)
جواب سوال سوم :یہ صورت دوروز نماز عید کی نہ تھی کہ وہاں جمعہ کو عید ناجائز تھی جنہوں نے پڑھی وُہ ایك ناجائز نفل تھا کہ جماعت سے ادا کیا اور گنہگار ہُوئے۔درمختار میں ہے:
|
صلٰوۃ العید فی القری تکرہ تحریما ای لانہ اشتغال بما لایصح۔ ٢[2] |
دیہاتوں میں نمازِ عید مکروہِ تحریمی ہے کیونکہ یہ ایسی چیز میں مشغول ہونا ہے جو درست نہیں(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
ھو نفل مکروہ لادائہ بالجماعۃ ح۔ ٣[3] |
یہ نوافل ہیں اور نوافل کی جماعت کے ساتھ ادائیگی مکروہ ہے۔(ت) |
نمازِ عید وہی ہُوئی جو دوسرے گروہ نے روزِ شنبہ پڑھی۔واﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ١٧٩: از ضلع بتیاڈاك خانہ و مقام رتسڑ رحیم اﷲ وعبدالرحمٰن ۱۳صفر المظفر١٣۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہاں مسلمان باشندوں میں سے ایك شخس حاجی مصدی صاحب ہیں جو کہ احاطہ بنگلہ خطہ آسام ضلع تبرپور رہتے ہیں اور وہیں تجارت کرتے ہیں لہذا انہوں نے خط لکھا کہ یہاں کے لوگوں نے چاند ماہ رمضان المبارك کا روز سہ شنبہ یعنی منگل کے ہُوا، قریب قریب پچاس آدمیوں نے دیکھا اور دوتین آدمی خاص ہمارے آدمیوں میں سے جوکہ کاروبار دُکان کے کرتے ہیں دیکھا مگر جناب حاجی مصدی صاحب انکار
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع