30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس طریقہ تراشیدہ پر عمل کرنے والوں سے پُوچھا جائے ان سب وسائط کی عدالت و ثقاہت سے کہاں تك آگاہ ہیں، حاش ﷲنام بھی نہیں معلوم ہوتا، نام درکنار اصل شمار وسائط بتانا دشوار، سب جانے دیجئے اسلام پر بھی علم نہیں اکثر ہنود وغیرہم کفاران خدمات پر معیّن، غرض کوئی موضوع سی حدیث اس نفیس سلسلے سے نہ آتی ہوگی، پھر ایسی خبر پر امورِ شرعیہ کی بنا کرنا استغفراﷲ علماء توعلماء میں نہیں جانتا کہ کسی عاقل کا کام ہو۔
تنبیہ چہارم: علماء تصریح فرماتے ہیں کہ دوسرے شہر سے بذریعہ خط خبر شہادت دینا صرف قاضیِ شرع سے خاص جسے سلطان نے مقدمات پر والی فرمایا ہو، یہاں تك کہ حَکم کا خط مقبول نہیں،درمختار میں ہے:
|
القاضی یکتب الی القاضی وھو نقل الشہادۃ حقیقۃ ولا یقبل من محکم بل من قاض مولی من قبل الامام الخ ملتقطا۔[1] |
قاضی،دوسرے قاضی کی طرف لکھ سکتا ہے اور یہ حقیقۃ نقلِ شہادت ہے اور یہ فیصل سے قبول نہیں بلکہ اس قاضی سے قبول ہے جسے حاکم نے مقرر کیا ہو الخ ملتقطا(ت) |
فتح میں ہے:
|
ھذاالنقل بمنزلۃ القضاء ولھذا لایصح الامن القاضی۔[2] |
یہ نقل بمنزلہ قضاء کے ہے لہذا یہ قاضی کے علاوہ کسی سے صحیح نہیں۔(ت) |
غیر قضاۃ تو یہیں سے الگ ہُوئے ، رہے قاضی، ان کی نسبت صریح ارشاد کہ اس بارے میں نامہ قاضی کا قبول بھی اس وجہ سے ہے کہ صحابہ وتابعین رضوان اﷲ علیہم اجمعین نے برخلاف قیاس اسکی اجازت پر اجماع فرمالیا ورنہ قاعدہ یہی چاہتا تھا کہ اس کا خط بھی اُنہی وجوہ سے جواوپر گزریں مقبول نہ ہو، اور پُر ظاہر کہ جو حکم خلافِ قیاس مانا جاتاہے مورد سے آگے تجاوز نہیں کر سکتا ،اور دوسری جگہ اس کا اجراء محض باطل و فاحش خطا ،پھر حکم قبول خط سے گزر کر تار تك پہنچنا کیونکر روا۔ ائمہ دین تو یہاں تك تصریح فرماتے ہیں کہ اگر قاضی اپنا آدمی بھیجے بلکہ بذاتِ خود ہی آکر بیان کرے کہ میرے سامنے گواہیاں گزریں ہرگز نہ سُنیں گے کہ اجماع تو صرف دربارہ خط منعقد ہوا ہے، پیامِ ایلچی وخود بیانِ قاضی اس سے جدا ہے۔ امام محقق علی الاطلاق شرح ہدایہ میں فرماتے ہیں:
|
الفرق بین رسول القاضی وکتابہ حیث |
قاضی کے قاصد اور اس کے خط میں یہ فرق ہے کہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع