30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باﷲ سبحانہ وتعالٰی اور یہ خیال کہ تار میں خبر تو شہادت کافیہ کی آئی ، محض نادانی کہ ہم تك تو نامعتبرہ طریقے سے پہنچی نبی صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم سے زیادہ معتبر کس کی خبر، پھر جو حدیث نا معتبر راویوں کے ذریعہ سے آتی ہے کیوں پایہ اعتبار سے ساقط ہوجاتی ہے!
تنبیہ دوم: تار کی حالت خط سے زیادہ ردی و سقیم کہ اس میں کاتب کا خط تو پہچانا جاتا ہے، طرز عبارت شناخت میں آتا ہے، واقف کار دیگر قرائن سے اعانت پاتا ہے ۔بایں ہمہ ہمارے علماء نے تصریح فر مائی ہے کہ امور شرعیہ میں ان خطوط و مراسلات کا کچھ اعتبار نہیں کہ خط خط کے مشابہ ہوتا ہے اور بن بھی سکتا ہے تو یقین شرعی نہیں ہوسکتا کہ یہ اُسی شخص کا لکھا ہُواہے۔ ائمہ دین کی عبارتیں لیجئے:اشباہ١میں ہے:لایعتمد علی الخط ولا یعمل بہ[1] (خط پر نہ اعتماد کیا جائے گا نہ عمل۔ت) ہدایہ٢ میں ہے: الخط یشبہ الخط فلم یحصل العلم[2] (خط دوسرے خط کے مشابہ ہوتا ہے لہذا اس سے علم حاصل نہ ہوگا۔ت) فتح القدیر٣میں ہے:الخط لاینطق وھو متشابہ[3] (خط بولتا نہیں اور اس میں مشابہت ہوتی ہے ۔ ت) درمختار ٤میں ہے:لایعمل بالخط الخ[4] (خط پر عمل نہیں کیا جاسکتا الخ۔ت)فتاوی قاضیخاں ٥ میں ہے:
|
القاضی انما یقضی بالجحۃ والحجۃ ھی البینۃ اوالاقرار اماالصك فلا یصلح حجۃ لان الخط یشبہ الخط۔[5] |
قاضی فیصلہ دلیل پر کرے اور دلیل گواہ ہیں یا اقرار پر فیصلہ کرے، اشٹام حجت نہیں کیونکہ خط دوسرے خط کے مشابہ ہوسکتا ہے(ت) |
کافی شرح وافی٦میں ہے: الخط یشبہ الخط وقد یزور ویفتعل[6]۔(خط خط کے مشابہ ہوتا ہے اور
[1] اشباہ والنظائر کتاب القضاء والشہادات والد عاوی ادارۃالقرآن وعلوم اسلامیہ کراچی ١/٣٣٨
[2] ہدایہ کتاب الشہادت فصل مایتحملہ الشاہد مطبع یوسفی لکھنؤ ٣/١٥٧
[3] فتح القدیر
[4] درمختار کتاب القاضی الی القاضی وغیرہ مطبع مجتبائی دہلی ٢/٨٣
[5] فتاوٰی قاضی خاں،فصل فی دعوی الوقف الخ،منشی نولکشور لکھنؤ ٤/٧٤٢
[6] کافی شرح وافی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع