30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بدروالصّلٰوۃ والسلام علی اجل شموس الرسالۃ قدر او علیٰ اٰلہ وصحبہ نجوم الھدی واقمار التقی مااتی البرق بخبر الودق فصدق مرۃ وکذب اخری اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔ |
بدربن جاتا ہے، صلٰوۃ وسلام اس ذات پر جو قدر ومنزلت میں رسالت کا سب سے اعلٰی آفتاب ہیں، آپ کے آل واصحاب پر جو ہدایت کے ستارے اور تقوٰی کے چاند ہیں جب تك بجلی کی چمك بارش کی خبر دے کبھی وُہ سچ ہو اور کبھی غلط، اے اﷲ! حق وصواب کی ہدایت عطا فرما۔(ت) |
امورِ شرعیہ میں تار کی خبر محض نامعتبر، اور یہ طریقہ کہ تحقیق ہلال کیلئے تراشا گیا باطل و بے اثر، مسلمانوں کو ایسے علان پر عمل حرام،اور جو اس کی بنا پر مرتکب اعلان ہو سب سے زیادہ مبتلائے آثام۔ اس طریقے میں جو غلطیاں اور احکامِ شرع سے سخت بیگا نگیاں ہیں۔اُن کی تفصیل کو دفتر درکار، لہذا یہاں بقدرضرورت و فہم مخاطب چند آسان تنبیہوں پر اقتصار۔
تنبیہ اول: شریعتِ مطہرہ نے دربارہ ہلال دوسرے شہر کی خبر کو شہادت کافیہ یا تواتر شرعی پر بنا فرمایا اور ان میں بھی کافی و شرعی ہونے کے لیے بہت قیود وشرائط لگائیں جس کے بغیر ہرگز گواہی و شہرت بکار آمد نہیں اور پُر ظاہر کہ تار نہ کوئی شہادتِ شرعیہ ہے نہ خبر متواتر، پھر اس پر اعتماد کیونکر حلال ہوسکتا ہے۔ فتح القدیر ودرمختار وحاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نورالایضاح میں ہے:
|
واللفظ للدریلزم اھل المشرق برؤیۃ اھل المغرب اذا ثبت عند ھم رؤیۃ اولٰئك بطریق موجب۔[1] |
در کے الفاظ یہ ہیں اہلِ مشرق پر اہلِ مغرب کی رویت کی وجہ سے لازم ہوجاتا ہے بشرطیکہ جب اس رویت کا ثبوت ان کے ہاں بطریق موجب ہو۔(ت) |
علامہ حلبی وعلامہ طحطاوی وعلامہ شامی حواشیِ در میں فرماتے ہیں:
|
بطریق موجب کان یتحمل اثنان الشھادۃ اویشہد اعلی حکم القاضی او یستفیض الخبر بخلاف ما اذااخبر اان اھل بلدۃ کذا،رأوہ لانہ حکایۃ۔ ٢[2] |
طریق موجب یہ ہے کہ شہادت لانے والے دو ہوں یا وہ قاضی کے فیصلہ پر گواہ ہوں یا خبر مشہور ہو بخلاف اس صورت کے جب دونوں نے یہ خبردی ہوکہ فلاں اہلِ شہر نے دیکھا ہے کیونکہ یہ تو حکایت ہے۔(ت) |
جو یہاں تار کی خبر پر عمل چاہے اس پر لازم کہ شرعًااس کا موجب و ملزم ہونا ثابت کرے مگر حاشانہ ثابت ہوگا جب تك ہلال مشرق اور بدر مغرب سے نہ چمکے، پھر شرع مطہر پر بے اصل زیادت اور منصب رفیع فتوٰی پر جرأت کس لیے ۔ والعیاذ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع