30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آئندہ کیلئے عہد واثق ہو کہ کبھی اموردین میں بیبا کی وجرأت نہ کرینگے اور بے ارشادِ علماء اپنی رائے سے قدم نہ رکھیں گے،
|
وَیَتُوۡبُ اللہُ عَلٰی مَنۡ یَّشَآءُ ؕ[1] وَیَہۡدِیۡۤ اِلَیۡہِ مَنْ اَنَابَ ﴿ۖۚ۲۷﴾[2] |
اﷲتعالٰی جس کی چاہے توبہ قبول فرمائے۔ اوراپنی طرف اسی کو ہدایت دیتا ہے جو اس کی طرف رجوع لائے(ت) |
پھر اگر طرق مقبولہ شرع سے ثابت ہوجائے کہ وہ خبر سچی اور عید واقعی تھی تو ان پر اس روزے کی قضا نہیں کہ تحقیق ہوا وہ دن روزے کا نہ تھا،
|
ولاقضاء الاعن وجوب وافساد النفل بعد الشروع وان اوجب القضاء لکن ھذا فی غیر صوم الایام الخمسۃ کمافی التنویرو شرحہ للعلائی، علی ان محلہ فی الشروع قصد االا تری ان من شرع فی صلٰوۃ ظاناانہ لم یصلھا ثم تذکر فقطع لا قضاء علیہ۔ |
وجوب کے سوا کسی کی قضانہیں، نفلی روزہ شروع کرکے توڑدینے سے روزہ واجب ہوجاتا ہے لیکن وہ حکم ان پانچ دنوں کے علاوہ ہے جیسا کہ تنویر اور اس کی شرح للعلائی میں ہے، علاوہ ازیں اس کا محل قصدًا شروع ہونا ہے کیا آپ نہیں جانتے کہ جو شخص کسی نماز میں یہ گمان کرتے ہُوئے شروع ہُوا کہ اس نے ادا نہیں کی تھی، پھر اسے یاد آگیا کہ اس نے ادا کرلی ہے تو اس نے نماز توڑدی تو اب اس پر قضا نہیں۔(ت) |
نظیر اس کی یہ ہے کہ ابھی غروبِ شمس محقق نہ ہُوا اور کسی شخص نے جزافًا روزہ کھول لیا یہ امراسے روانہ تھا، کما فی السراج الوھاج والبحر الرائق ووجیزالکردری(جیساکہ سراج الوہاج، بحر الرائق اور وجیز کردری میں ہے۔ت) لیکن اگر بعد کو ثابت ہو کہ فی الواقع اُس وقت آفتاب ڈوب چکا تھا تو روزے کی قضا نہیں، کما نص علیہ الامام الزیلعی ثم الطحطاوی ثم الشامی(جیسا کہ اس پر امام زیلعی نے پھر طحطاوی اور پھر شامی نے تصریح کی ہے۔ت) کہ ظاہر ہُوا کہ وقوعِ افطار اپنے محل میں تھا،اور اگر منکشف ہوکہ خبر غلط تھی اور وہ دن رمضان کا تھا یاکچھ تحقیق نہ ہو تو بے شك اُس روزے کی قضا لازم ہے، تقدیراول پر تو وجہ واضح اور بر تقدیر ثانی رمضان کا آنا یقینی تھا اور اُس کاجانا شرعًا ثابت نہ ہوا والیقین لایزول بالشک(یقین شك سے زائل نہیں ہُوا کرتا۔ت)تو وہ دن عندالشرع رمضان ہی کا تھا کہ شرع نے عدم رؤیت میں تیس ٣٠ دن پُورے کامہینہ رکھا ہے،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع