30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
انہوں نے اپنی رائے مستقل سمجھی فرقانِ حکیم نے فرمایا تھا جب تك شرع اجازت نہ دے آپ کچھ نہ کر بیٹھو
|
قال اﷲتعالیٰ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُقَدِّمُوۡا بَیۡنَ یَدَیِ اللہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَاتَّقُوا اللہَ ؕ اِنَّ اللہَ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۱﴾[1] |
اﷲتعالیٰ نے فرمایا: اے اہلِ ایمان!اﷲاور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اﷲتعالیٰ سے ڈرو یقینا اﷲ سُننے جاننے والا ہے(ت) |
انہوں نے بے ثبوت شرعی جسارت کی، رمضان شریف بالیقین ثابت تھا، اور مسلمانوں کو شرع مطہر نے بحکم فَمَنۡ شَہِدَ مِنۡکُمُ الشَّہۡرَ فَلْیَصُمْہُؕ[2] (جو ماہِ رمضان کو پائے وہ ضرور اس کے روزے رکھے۔ت) روزے پر جمع فرمایا تھا واجب تھا کہ جب شرع اِذن دیتی کہ اب وُہ کام ختم ہوا اُس وقت روزہ چھوڑتے،
|
قال اﷲتعالیٰ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوۡنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ اِذَا کَانُوۡا مَعَہٗ عَلٰۤی اَمْرٍجَامِعٍ لَّمْ یَذْہَبُوۡا حَتّٰی یَسْتَاۡذِنُوۡہُ ؕ۔[3] |
اﷲتعالیٰ نے فرمایا: بلاشبہ ایمان والے تو وہی ہیں جو اﷲاور اس کے رسول پر یقین لائے اور وہ جب حضور کے پاس کسی معاملہ میں حاضر ہوتے ہوں جس کیلئے جمع کے گئے ہوں تو آپ اجازت کے بغیر وہاں سے نہیں جاتے(ت) |
انہوں نے بے اذن شرع کہ ہنوز اس تاریخ رمضان کا ختم ہوجانا دلیل شرعی سے ثابت نہ ہوا تھا اُس امر جامع سے جدائی کی، مانا کہ بعد کو عید ہی ظاہر ہو مگر اُس وقت تك اُن کے شہر میں تو رمضان ہی معلوم تھا، انہوں نے قطعًا امر دین ناواقفا نہ جسارت اور احکامِ شرع سے جاہلانہ مخالفت کی، تو یہ اگر چہ نفس الامر میں مصیب ہوں عندالشرع خطا وار ہوئے،
|
کما قال رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم من قال فی القراٰن برأیہ فاصاب فقد اخطأ ۔٤[4] اخرجہ ابو داؤدو الترمذی والنسائی عن جندب رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ |
جیسا کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے قرآن پاك کی تفسیر اپنی رائے سے کی وہ درست بھی ہوتو پھر بھی اس نے خطاء کی۔ اسے ابوداؤد، ترمذی اور نسائی نے حضرت جندب رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے بیان کیا۔(ت) |
اور یہیں سے ثابت وہ بہر تقدیر اپنی بے باکی وجرأت واستقلال بالرائے ومخالفتِ اہل علم واختراعِ حکم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع