دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 10 | فتاویہ رضویہ جلد ۱۰

book_icon
فتاویہ رضویہ جلد ۱۰

یعنی قمری سال ٣٥٤یا ٣٥٥ دن کا ہوتا ہے تو شمسی سال سے دس گیارہ دن چھوٹا ہے، سمجھنے کے لیے کسرات چھوڑ کر شمسی سال ٣٦٥ قمری ٣٥٥ میں رکھے کہ دس دن کا فرق ہوا، اب فرض کیجئے کہ کسی سال یکم رمضان شریف یکم جنوری کو ہُوئی تو آئندہ سال ٢٢دسمبر کو یکم رمضان ہوگی کہ قمری ١٢ مہینے ٣٥٥ دن میں ختم ہوجائیں گے اور شمسی سال پورا ہونے کو ابھی دس دن اور درکار ہیں،پھر تیسرے سال یکم رمضان ١٢دسمبر کو ہوگی، چوتھے سال یکم دسمبر کو ہوگی، تین برس میں ایك مہینہ بدل گیا، پہلے یکم جنوری کو تھی اب یکم دسمبر کوہُوئی، یونہی ہر تین برس میں ایك مہینہ بدلے گا اور رمضان المبارك ہر شمسی مہینہ میں دورہ فرمائے گا، بعینہٖ یہی حالت ہندی مہینوں کی ہوگی، اگروہ لوند نہ لیتے، انھوں نے سال رکھا شمسی اور مہینے لیے قمری، توہر برس دس دن گھٹ گھٹ کر تین سال بعد ایك مہینہ گھٹ گیا، لہذا ہر تین سال پر وہ ایك مہینہ مکرر کرلیتے ہیں تاکہ شمسی سال سے مطابقت رہے، ورنہ کبھی جیٹھ جاڑوں میں آتا اور پوس گرمیوں میں،بلکہ نصارٰی جنہوں نے سال وماہ سب شمسی لیے اگر یہ چوتھے سال ایك دن بڑھا کر فروری ٢٩ کا نہ کرتے تو اُن کو بھی یہی صورت پیش آتی کہ کبھی جُون کا مہینہ جاڑوں میں ہوتا اور دسمبر گرمیوں میں، یوں کہ سال ٣٦٥دن کا لیا اور آفتاب کا دَورہ ابھی چند گھنٹے بعد پُورا ہوگا کہ جس کی مقدار تقریبًا چھ٦گھنٹے، تو پہلے سال شمسی سال دورہ یافتہ سے ٦گھنٹے پہلے ختم ہوا، دوسرے سال ١٢گھنٹے پہلے، تیسرے سال ١٨ گھنٹے پہلے، چوتھے سال تقریبًا ٢٤گھنٹے، اور ٢٤گھنٹے کا ایك دن رات ہوتا ہے لہذا ہر چوتھے سال ایك دن بڑھا دیا کہ دورہ آفتاب سے مطابقت رہے، لیکن دورہ آفتاب پُورے چھ گھنٹے زائد نہ تھا بلکہ چوتھے تقریبًا پونے چھ گھنٹے، توچوتھے سال پورے ٢٤گھنٹے کا فرق نہ پڑا تھا بلکہ تقریبًا ٢٣ گھنٹے کا اور بڑھالیا ایك ایك کہ ٢٤ گھنٹے ہے،تو یوں ہر سال میں شمسی سال دورہ آفتاب سے کچھ کم ایك گھنٹہ بڑھے گا، سَوبرس بعد تقریبًا ایك دن، لہذا صدی بعد گھٹا کر پھر فروری ٢٨دن کا کر لیا، اسی طرح اور دقیق کسرات کا حساب ہے۔واﷲتعالیٰ اعلم

مسئلہ ١٦٦: از رائے پورسی پی محلہ بیجناتھ پارہ مرسلہ بہادر علی خاں سپرنٹنڈنٹ پنشنر محکمہ بندوبست ٢٤ذی الحجہ ١٣٣٦ھ شعبان کی ٢٩ کو اگر چاند نظر نہ آئے تو ٣٠ کو علاوہ قاضی و مفتی کے عوام کو روزہ رکھنا جائز ہے یا نہیں؟ اور جائز ہے تو کس نیت سے؟

الجواب:

اگر ٢٩کی شام کو مطلع صاف ہو اور چاند نظر نہ آئے تو ٣٠ کو قاضی مفتی کوئی بھی روزہ نہ رکھے اور اگر مطلع پرابر وغبار ہوتو مفتی کو چاہئے کہ عوام کو ضحوہ کبرٰی یعنی نصف النہار شرعی تك انتظار کا حکم دے کہ جب تك کچھ نہ کھائیں پئیں،نہ روزے کی نیّت کریں، بلا نیّتِ روزہ مثل روزہ ر ہیں، اس بیچ میں اگر ثبوت شرعی سے


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن