30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
علی اھل الدارالتی فیھم المسلم المستامن لایحل لہ قتال ھٰؤلاء الکفار الاان خاف علیٰ نفسہ لان القتال لما کان تعریضا لنفسہ علی الھلاك لایحل الا لذٰلك اولا علاء کلمۃ اﷲتعالیٰ وھو اذالم یخف علی نفسہ لیس قتالہ لہٰؤلاء الااعلاء لکفر۔[1] |
کچھ لوگوں نے کسی ایسے علاقے پر حملہ کردیا جس میں کسی مسلمان نے پناہ لے رکھی تھی تواس مسلمان کے لیے ان کفار کے ساتھ لڑائی کرنا جائز نہ ہوگا، البتہ اس صورت میں جب اسے اپنی جان کا خوف ہو، کیونکہ قتال میں اپنے آپ کو ہلاکت پر پیش کرنا ہوتا ہے اور یہ جائز نہیں مگر اس صورت میں جب اپنی جان کا خوف ہو یا کلمۃاﷲتعالیٰ کی سربلندی کے لیے ہو، اور جب اسے اپنے نفس کا خوف نہیں تواب اس کا قتال سوائے کفر کی بلندی کے کُچھ نہ ہوگا۔(ت) |
ہاں جب یہ لوگ سفر میں ہوں تو بوجہ سفراجازت ہوگی اگر چہ وُہ سفر جانب سقرہو۔
|
کما قدمنا عن الدرالمختار والخلاف فیہ معروف بیننا وبین الشافعی رضی اﷲتعالیٰ عن الجمیع۔واﷲتعالیٰ اعلم۔ |
جیسا کہ ہم نے دُرمختار کے حوالے سے پیچھے بیان کیا ہے او راس میں ہمارے اور امام شافعی (اﷲتعالیٰ ان تمام سے راضی ہو )کے درمیان مشہوراختلاف ہے۔واﷲتعالیٰ اعلم (ت) |
مسئلہ ١٦٥: عرفان علی صاحب رضوی بیسل پوری ملازم کچہری کلکٹر پیلی بھیت ١٦شعبان ١٣٣٣ھ
ماہ رمضان شریف کبھی موسمِ گرما میں ہوتا ہے کبھی موسمِ سرما ، کبھی موسمِ بہار میں کبھی برسات میں۔ فرض کیجئے کہ ایك مرتبہ ماہِ رمضان گرمیوں میں ہو تو دوسرے سال بھی گرمیوں میں ہونا چاہئے کیونکہ وہی موسم دوبارہ سال بھر بعد آتا ہے، شمسی مہینے کے حساب سے کبھی رمضان موسمِ گرما میں ہوتا ہے اور کبھی موسمِ سرما میں، اس کی وجہ کیا ہے؟ چونکہ حضور علمِ ہیأت میں یدِ طُولیٰ رکھتے ہیں پس سوائے حضور کے کسی اور سے اس کاحل ہونا غیر ممکن ۔بینواتوجروا
الجواب:
موسموں کی تبدیلی خالق عزوجل نے گردشِ آفتاب پر رکھی ہے مثلًا تحویلِ برج حمل سے ختمِ جوز ا تك فصل ربیع ہے، پھر تحویل سرطان سے ختمِ سنبلہ تك گرمی، پھر تحویلِ میزان سے ختمِ قوس تك خریف، پھر تحویل جدی سے ختمِ حوت تك جاڑا، یہ آفتاب کا ایك دَور ہے کہ تقریبًا ٣٦٥ دن اور پونے چھ گھنٹے میں کہ پاؤ دن کے قریب ہُوا پُورا ہوتاہے۔ اور عربی شرعی مہینے قمری ہیں کہ ہلال سے شروع اور ٣٠یا ٢٩ دن میں ختم ہوتے ہیں۔ یہ بارہ ١٢مہینے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع