30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خیر ہے ، اور اس کے عکس میں شر، اور ولی کو چاہئے بچّے کو ہر خیر کاحکم دے اور ہرشر سے باز رکھے۔ محشیانِ دُر ساداتنا حلبی و طحطاوی و شامی رحمہم اﷲتعالیٰ فرماتے ہیں:
|
مرادہ من ھذین النقلین بیان ان الصبی ینبغی ان یومر لجمیع المأمورات وینھی عن جمیع المنھیات ۔[1] |
ان دونوں تصریحات کامقصد یہ ہے کہ ولی پر لازم ہے کہ وُہ بچّے کو تمام اوامر کو بجالانے اور تمام منہیات سے باز رہنے کا کہے۔(ت) |
علّامہ طحطاوی نے فرمایا:
|
فلا خصوصیۃ للصلٰوۃ والصوم والخمر کما یرشد الیہ التعلیل اھ [2]ھذا ماعندی والعلم بالحق عند ربی انہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔ |
اس میں نماز، روزہ اور شراب ہی مخصوص نہیں جیسا کہ علت کا بیان اسے واضح کررہا ہے اھ۔ یہ مجھ پر واضح ہوا ہے علمِ حق میرے رب کے پاس ہے، انہ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم(ت) |
مسئلہ ١٦٣: از کمپ معرفت حکیم سیّد نورالحسن صاحب دہلوی ٤شوال ١٣٠٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیانِ شرع متین بیچ اس مسئلہ کے جوکہ بوجہ اختلاف ہونے رؤیت ہلال کے ٣٠تاریخ رمضان المبارك کو روزہ افطار کیا گیا اور بعد معلوم ہوجانے خبر تکذیب رؤیت کے روزہ قائم نہیں کیا گیا اور اکل وشرب برابر رکھا، اب اس روزے کے واسطے کفارہ لازم ہے یا قضا ونیز جن صاحبوں نے بعد خبر پانے تکذیب رویت کے پھر اپنے صوم کوکلی غرارہ سے دہن کو پاك کرکے قائم کرلیا ہے اُن کو کیا امر لازم ہے آیا کفارہ یا قضا؟
الجواب:
جنہوں نے اکل و شرب قائم رکھا حالانکہ کذب پر مطلع ہوچکے تھے وُہ گنہ گار ہُوئے لیکن کفارہ ان پر بھی نہیں، جنہوں نے فورًا کلی غرارہ کرلیاوُہ ثواب پائیں گے اور ایك روزہ اُس کے عوض کا وُہ بھی رکھیں۔واﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ ۱۶۴ : از گلگٹ چھاؤنی جو نال مرسلہ سردارامیر خاں ملازم کپتان اسٹوٹ ٢٢ذی الحجہ ١٣١٢ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سفر میں روزہ رکھنا کیسا ہے؟خاص کرکے لڑائی کے موقع پر جاناہے۔ بینواتوجروا
الجواب:
جو اپنے گھر سے تین منزل کامل یا زیادہ کی راہ کا ارادہ کرکے چلے خواہ کسی نیت اچھی یا بُری سے جانا ہو، وُہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع