30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ظاہر الحدیث ان الامر لابن سبع واجب کا لضرب والظاہر ایضاان الوجوب بالمعنی المصطلح علیہ لا بمعنی الافتراض لان الحدیث ظنی فافھم۔[1] |
ظاہر حدیث میں ہے کہ سات سال کے بچے کو نماز کا کہنا اسی طرح واجب ہے، جیسے دس سال کے بچے کو سزا دینا واجب ہے اور یہ بھی واضح ہے کہ یہاں وجوب سے اصطلاحی وجوب مراد ہے نہ کہ بمعنی فرض، کیونکہ حدیث ظنی ہے۔پس غور کیجئے۔(ت) |
درمختار میں ہے: والصوم کالصّلٰوۃ علی الصحیح[2] (صحیح قول کے مطابق روزہ کا حکم نماز ہی کی طرح ہے۔ت)عالمگیری میں ہے:قال الرازی یؤمر الصبی اذااطاقہ[3] (امام رازی نے فرمایا: جب بچہ توانا ہوجائے تو اسے(نماز و روزہ کا)حکم دیاجائے۔ت)اُسی میں ہے:
|
ھذا اذالم یضرالصوم ببدنہ فان اضر لایؤمر بہ۔[4] |
یہ اس وقت ہے جب روزہ جسمانی تکلیف کا سبب نہ بن رہا ہو،اگر بن رہا ہو تو پھراسے نہ کہاجائے(ت) |
اور پُر ظاہر کہ یہ احکام حدیث و فقہ میں مطلق وعام، تو ولی نابالغ ہفت سال یا اس سے بڑے کہ اُسی وقت ترك صوم کی اجازت دے سکتا ہے جبکہ فی نفسہٖ روزہ اُسے ضرر پہنچائے ورنہ بلا عذر شرعی اگر روزہ چُھڑائے گا یا چھوڑنے پر سکوت کرے گا گنہ گار ہوگا کہ اس پر امر یا ضرب شرعًا لازم اور تارك واجب، بزہ کار وآثم ،اور دَورِ کلام اﷲکی محنت عذر و افطار نہیں۔ اوّلًا اکثر ہوتا ہے کہ بچّے بہت جوان قوی تندرست لوگ ایسے امور میں کم ہمتی کو بے قدرتی سمجھ لیتے حالانکہ کمرِ ہمّت چست باندھیں تو کھل جائے کہ عجز سمجھنا صرف وسوسہ تھا، اور واقعہ میں عجز ہوبھی یعنی روزہ رکھ کر کلام اﷲشریف پر محنتِ شاقہ نہیں ہوسکتی تو راہ یہ ہے کہ روزہ رکھوائیں اور قرآن مجید کا جتنا شغل بے کلفت ہوسکے لیں، اور جس قدر کی طاقت نہ دیکھیں بعد رمضان دورِ آئندہ پر ملتوی رکھیں کہ شرعًا صیام کے لیے ایّام معین ہیں جن کے فوت سے ادافوت ہوگی اور دور کے لیے کوئی دن مقرر نہیں ہمیشہ وہر وقت کرسکتے ہیں فرض کیجئے اگر مرد نوجوان تندرست مقیم کی یہی حالت ہوتی ہے کہ روزے کے ساتھ محنت دَور نہ کرسکتا تو کیا شرع اسے اجازت دیتی کہ دور کے لیے روزہ ترك کرے، حاشا و کلّا، بلکہ لازم فرماتی کہ روزہ رکھ اور دَور دَور دیگر پر موقوف رکھ، تو معلوم ہوا اسی میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع