30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بوجہ کثرت ضعف ومحنت دَور، روزہ افطار کرے تو جائز ہے یا نہیں؟ بینواتوجروا
الجواب:
نابالغ پر تو قلمِ شرع جاری ہی نہیں وُہ اگر بے عذر بھی افطار کرے اُسے گنہ گار نہ کہیں گے۔
|
لقولہ عــــہ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم رفع القلم عن ثلثۃ الی قولہ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم وعن الصبی حتی یحتلم۔[1] |
حضور صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: تین افراد سے قلم اٹھالیا گیاہے۔ ان میں آپ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے اس بچّے کا بھی ذکر فرمایا ہے جو ابھی بلوغت کو نہیں پہنچا۔(ت) |
مگر بیان کرنا اس کا ہے کہ بچّہ جیسے آٹھویں سال میں قدم رکھے اس کے ولی پر لازم ہے کہ اسے نماز روزے کا حکم دے،اور جب اُسے گیاروہواں شروع ہوتو ولی پر واجب ہے کہ صوم و صلٰوۃ پر مارے بشرطیکہ روزے کی طاقت ہو اور روزہ ضرر نہ کرے۔ حدیثِ صحیح میں ہے کہ حضورپُرنور سیّد عالم صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
مروا اولاد کم بالصلوٰۃ وھم ابناء سبع سنین واضربوھم علیھا وھم ابناء عشر۔[2] |
جب بچّے سات سال کے ہوجائیں تو ا نھیں نماز کو کہو اور دس سال کے ہوجائیں توانھیں ترك نماز پر سزا دو۔(ت) |
تنویرالابصارمیں ہے:
|
وجب ضرب ابن عشر علیھا۔٣[3] |
ترك نماز پر دس سال کے بچّے کو سزادینا واجب ہے(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
عــــہ: رواہ احمد وابو داؤد والحاکم عن امیر المومنین عمر و علی کالنسائی وابن ماجۃ عن ام المومنین عائشۃ الصدیقۃ رضی اﷲتعالیٰ عنھم ١٢ منہ غفرلہ(م) |
اسے امام احمد، ابوداؤداور حاکم نے امیرالمومنین حضرت عمر اور حضرت علی رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے روایت کیا ، اور نسائی وابن ماجہ نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲتعالیٰ عنہم سے روایت کیا ١٢منہ غفرلہ،(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع