30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بد رستی کہ روا باشد خون ومال او ابویعلی باسناد حسن وقال المنذری ایضا اسنادہ حسن عن ابن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنھما قال حماد بن زید ولا اعلمہ الاقد رفعہ الی النبی صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم قال عری الاسلام وقواعد الدین ثلثۃ علیہن اسس الاسلام ، من ترك منھن واحدۃ فھو بھا کافر حلال الدم، شھادۃ ان لا الٰہ الّا اﷲوالصلٰوۃ المکتوبۃ وصوم رمضان۔١=[1] وفی روایۃ من ترك منھن واحدۃ فھو باﷲکافر ولا یقبل منہ صرف ولا عدل وقد حل دمہ ومالہ وروی ھذھ سعید بن زید بن عمرو بن مالك النکری عن ابی الجوازء عن ابن عباس عن النبی صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم ولم یشك فی رفعہ ،٢[2] وھم منقول باشد آں حضرت علیّہ علیہ الصّلوٰۃ والتحیۃ کہ فرمود حق تعالیٰ در دینِ اسلام چہار چیز را فرض کردہ است ہرکہ از انہا سہ بجا آرد اور راہیچ بکار نیا ید تا ہر ہمہ چہار را ادا ساز د، نماز و زکوٰۃ و |
کیا جائے گا اور اس کا خون ومال مباح ہوگا۔ اسے ابویعلیٰ نے اسناد حسن کے ساتھ ذکر کیا، منذری نے بھی اسے سند حسن کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے روایت کیا ہے، حماد بن زید کہتے ہیں کہ میں اسے نہیں جانتا مگر یہ کہ اس کی نسبت رسالتمآب صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کی طرف ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اسلام کے رسے اور دین کے ستون تین ہیں جن پر اسلام کی بنیادیں ہیں جس نے بھی ان میں سے کسی ایك کو ترك کِیا وُہ کافر ہے اور اس کا خون مباح ہے، پہلی لا الٰہ الّااﷲ کی شہادت، دوسری نمازِ فرض، تیسری رمضان کا روزہ۔ دوسری روایت میں ہے کہ جس نے ان میں سے کسی ایك کو چھوڑا وُہ اﷲکا منکر ہے،اس کا کوئی نفل و فرض قبول نہیں ، اس کا خون ومال مباح ہے۔یہ روایت سعید بن زید نے عمر وبن مالك النکری سے انھوں نے ابوالجوز اء سے انھوں نے حضرت ابن عباس سے انھوں نے رسو لِ خداصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے اور اس کے مرفوع ہونے میں شك نہیں کیا۔حضور صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم سے یہ بھی منقول ہے کہ حق تعالیٰ نے دین اسلام میں چار چیزوں کو فرض کیا ہے ان میں سے اگر کوئی تین بجا لاتا ہے تو وہ اس کے کسی کام نہیں آسکتے یہاں تك کہ وُہ چاروں کو بجا لائے (وُہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع