30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
پس نمی آید آں مرد بسوئے بادشاہ ویقف بخدمۃ الامیر الذی ھو غلام الملك وخادمہ می ایستد در چاکری یکے از امرائے بادشاہ کہ غلام بادشاہ و چاکر اوست و تحت یدہ وولایتہ وزیرِ دست قدرت وتصرف اوست ایں مثال اتیان سنن ونوافل ست کہ برطریقہ رسولِ خدا صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کہ بندہ وامیر وزیرِ خاص درگاہِ اوست وباستحسان واستحباب علماء کہ بندگان و غلامان اویند عمل کردن ست اگر چہ ہمہ بحکم حضرت پروردگار تعالیٰ وتشریع اوست، ولیکن فرائض را بہ جہت الزام وایجاب نسبت بجناب ایزدی کنند و سُنن و نوافل را کہ نہ دراں مرتبہ اند بخدمتِ رسول و اصحاب و اتباع اوصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم وعلیہم اجمعین عن علی بن ابی طالب روایت ست، از امیر المومنین علی کرم اﷲتعالیٰ وجہہ قال قال رسول اﷲ گفت گفت پیغمبرِ خدا صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم ان مثل مصلی النوافل بدرستیکہ قصہ وحال گزارندہ نفلہا وعلیہ فریضۃ وحال آنکہ بر ذمّہ او فرضی ست کہ نہ گزاردہ است آں را کمثل حبلی حملت ہمچو قصہ و حال زنے بار داست کہ تمام شدہ است مدت حمل اوفلمادنی نفاسھا اسقطت پس ہر گاہ نزدیك شد وقت زائیدن وے افگند بچہ رانا تمام از شکم ووجہ تشبیہ رنج دیدن و مشقت کشیدن ست بے فائدہ زیراکہ چوں |
نہیں آتا"یعنی وہ آدمی بادشاہ کی طرف نہیں آتا"اور وُہ بادشاہ کے ایسے امیر کے پا س کھڑا رہے جیسے اس کا غلام اور خادم ہو) یعنی وُہ ایسے چاکر کے پاس کھڑا رہتا ہے جو بادشاہ کا غلام ہے"اور اس کے قبضہ وولایت میں ہے"وہ اس کے تصرف اور قدرت کے تحت ہے، یہ ان سنن و نوافل کی مثال ہے جو رسول اﷲصلی تعالیٰ علیہ وسلم (جو بارگاہ خداوندی میں امیر اور خصوصی وزیر ہیں) کے طریقہ پر یا علماء کے استحباب پر (جو اﷲتعالیٰ کے غلام اور بندے ہیں) کے طریقہ پر عمل پیرا ہوتا ہے اگر چہ تمام پروردگار کے حکم سے ہی لیکن فرائض کی نسبت الزام وایجاب کی وجہ سے اﷲتعالیٰ کی طرف کی جاتی ہے اور وہ سنن و نوافل جن کا درجہ یہ نہیں ان کی نسبت رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب و اتباع کی طرف کر دی جاتی ہے۔حضرت علی بن ابی طالب سے مروی ہے امیرالمومنین حضرت علی کرم اﷲ وجہہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:"نوافل ادا کرنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو نوافل ادا کرتا ہے حالانکہ اس پر فرائض ہیں"حالانکہ اس کے ذمّہ ایسے فرائض ہیں جنھیں اس نے ادا نہیں کیا"اس حاملہ خاتون کی طرح ہے"جس کی مدتِ حمل مکمل ہوگئی"جب ولادت کا وقت آیا تو اس نے بچّے کو گرادیا) یعنی ناتمام بچّے کو اس نے جننے کے وقت گرادیا۔ وجہ تشبیہ بے فائدہ تکلیف و مشقّت اٹھانا ہے کیونکہ جب وُہ نوافل عدمِ ادائیگیِ فرائض مقبول ہی نہیں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع