30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فاروق اعظم رضی اﷲتعالیٰ عنہ سلیمان بن ابی حثمہ را درجماعت صبح نہ دید مادر ش را پر سید عرض داد اوہمہ شب نماز گزاردہ است صبح دم خوابش بر د و حضور جماعت نتوانست امیرالمومنین فرمود مرا د رجماعت صبح حاضر شدن محبوب ترست از شب زندہ داشتن مالك فی المؤطاعن شھاب عن ابی بکر بن سلیمان بن ابی حثمۃ عن عمر الخطاب فقدَ سلیمان بن ابی حثمۃ فی صلٰوۃ الصبح وان عمر بن الخطاب غد ا الی السوق وسکن سلیمان بین السوق والمسجد فمر علی الشفاء ام سلیمان فقال لھالم ارسلیمان فی صلٰوۃ الصبح فقالت انہ بات یصلی فغلبتہ عیناہ فقال عمر لان اشھد صلٰوۃ الصبح فی الجماعۃ احب الی ان اقوم لیلۃ اھ١ [1]رواہ ابوبکر بن ابی شیبۃ عن عبدالرحمٰن عن عمر ولفظہ لان اصلیھما فی جماعۃ احب الی من احیی مابینھما [2]یعنی الصبح والعشاء |
فاروق اعظم رضی اﷲتعالیٰ عنہ نے حضرت سلیمان بن ابی حثمہ کو صبح کی جماعت میں نہ دیکھا آپ نے ان کی والدہ سے وجہ پوچھی تو انھوں نے عرض کیاوہ تمام رات نماز پڑھتے رہے صبح کے وقت انھیں نیند آگئی جس کی وجہ سے وُہ جماعت میں شریك نہ ہوسکے، امیرالمومنین نے فرمایا: میرے نزدیك صبح کی نماز میں شریك ہونا تمام رات کی عبادت سے کہیں افضل ہے۔ مؤطا میں امام مالك نے شہاب سے انھوں نے ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ سے انھوں نے حضرت عمر بن خطاب سے بیان کیا کہ انہوں نے سلیمان بن ابی حثمہ کو نمازِ صبح میں غائب پایا، دوسرے دن حضرت عمر بازار کی طرف تشریف لے گئے سلیمان مسجد اور بازار کی درمیانی جگہ پر رہائش پذیر تھے، آپ سلیمان کی والدہ حضرت شفا کے پاس سے گزرے فرمایا: میں نے سلیمان کو نمازِ صبح میں نہیں دیکھا وُہ کہنے لگیں: وہ ساری رات نماز پڑھتا رہا صبح اس پر نیند کا غلبہ ہوگیا۔آپ نے فرمایا: نمازِ صبح کیلئے حاضر ہونا مجھے تمام رات قیام سے زیادہ محبوب ہے۔ اسے ابوبکر ابن ابی شیبہ نے عبدالرحمٰن سے، انہوں نے حضرت عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کیا، اور اس کے الفاظ یہ ہیں:"مجھے جماعت کے ساتھ دونوں نمازیں ادا کرنا ان دونوں(عشاء اور صبح)کے درمیان |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع