30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوجائیگا اور زکوٰۃ بھی ادا ہوجائیگی اور فقیر کو بھی سو پچاس روپیہ کا مال مل جائے گا اور وُہ بعد ادائے زکوٰۃ دس ہزار روپیہ واپس دینا نہ چاہئے یہ جبرًالے سکتا ہے کہ اس کا اتنا اس پر آتاہے۔ دُرمختار میں ہے:
|
ولو امتنع المدیون مدیدہ واخذھا لکونہ ظفر بجنس حقہ۔١[1]واﷲتعالیٰ اعلم |
اگر مدیون نہیں دیتا تو اسے چھین لے کیونکہ یہ اپنے حق کے حصول پر قدرت پاتا ہے۔واﷲتعالیٰ اعلم(ت) |
مسئلہ١٥٩: از کانپور محلہ فیل خانہ قدیم مرسلہ مولانامولوی سید محمد آصف صاحب زید فیضہم ٢٧جمادی الآخر ١٣٣٨ھ
کتاب کنوز الحقائق میں یہ حدیث شریف ہے:تصدقواعلی اھل الادیان کلھا[2] (تمام دینوں والوں پر صدقہ کرو۔ت) اور دوسری حدیث سے ثابت ہے کہ ہر جاندار سے بھلائی صدقہ ہے۔ ائمہ کرام کفار حربی سے سلوك کو کیوں منع کرتے ہیں، ان کے کیا دلایل ہیں اور احادیث کے کیا جواب؟کتاب السنیۃ الانیقہ میں ہے:
|
لا تکون براشرعا ولذالم یجزالتطوع الیہ فلم یقع قربۃ۔٣[3] |
یہ شرعًانیکی نہیں ہوگی اسی وجہ سے ایسے کافر پر نفلی صدقہ جائز نہیں اور نہ وہ قربت بنے گا۔(ت) |
الجواب:
بہ ملاحظہ مولانا المکرم ذی المجد والکرام مولانا مولوی سیّد آصف دامت فضائلہم، تصدقو اعلی اھل الا دیان کلھا میں امر بتصدق ہے اور تصدق قربت جہاں قربت نہ ہو صدقِ تصدق محال ہے اوربہ تصریح ائمہ اہل حرب کو کُچھ دینا اصلًاقربت نہیں تو وہاں صدق تصدق نا ممکن اور قطعًاحاصلِ حدیث یہ کہ جن کو دینا قربت ہے وُہ کسی دین کے ہوں ان پر تصدق کرویہ ضرور صحیح ہے اور صرف اہلِ ذمّہ کو شامل نصرانی ہوں خواہ یہودی خواہ مجوسی خواہ وثنی، کسی دین کے ہوں،اگر وُہ قول لیں کہ غنی کو دینا صدقہ نہیں ہوسکتا تو مسلمان غنی بھی اس عموم اہل الادیان کلہا میں نہیں آسکا کہ وہ محلِ صدقہ ہی نہیں اور کلام تصدق میں ہے، یہی جواب اس حدیث سے ہے کہ ہر جاندار سے بھلائی صدقہ ہے، ورنہ صحیح مسلم شریف کی صحیح حدیث میں فرمایا کہ جو وزغ کو ایك ضرب مارے سَو نیکیاں پائے۔ [4]دوسری حدیث میں ہے: جس نے سانپ کو قتل کیا اس نے گویا ایك مشرك حلال الدم کو قتل کیا۔[5]رواہ الامام احمد عن عبداﷲبن مسعود رضی اﷲتعالیٰ عنہ(اسے امام احمد نے حضرت عبد اﷲبن مسعود سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع