30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الیٰ وجوہ الخیر ویحرمہ عن المیراث ھذاخیرمن ترکہ۔١[1] واﷲتعالیٰ اعلم۔ |
وراثت سے محروم کرکے مال کو اچھے کاموں پر خرچ کردوں تو یہ وراثت چھوڑنے سے بہترہے(ت) واﷲتعالیٰ اعلم |
مسئلہ ١٥٧: از جبلپور ضلع پیلی بھیت مرسلہ محمد حسین احمد صاحب اسٹیشن ماسٹر ٦ربیع الآخر ١٣٣١ھ
مخزن علوم حقانی وربانی ادام اﷲفیوضہم،تسلیم بعد تعظیم میری اہلیہ عرصہ سے ہر سال حضرت غوث الاعظم کی گیارھویں میں سوامن بریانی پکواکر نیاز دلاتی ہے اور مساکین کو تقسیم کی جاتی ہے کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ یہ رقم امسال شہداء ویتامیٰ عساکر عثمانیہ کی امداد کے لیے بھیجی جائے اور گیارہویں شریف معمولًاقدرے شیرینی یا طعام پر دلادی جائے؟ زیادہ نیاز
الجواب:
اگر دونوں باتیں نہ ہوں تو یہی بہتر ہے کہ قدرے نیاز دے کر وُہ تمام قیمت امداد مجاہدین میں بھیج دی جائے اور اس کا ثواب بھی نذرِرُوح اقدس حضرت سیّدنا غوثِ اعظم رضی اﷲتعالیٰ عنہ کو کیا جائے۔واﷲ تعالیٰ اعلم
مسئلہ١٥٨: از بلتہرابازار ضلع بلیا مرسلہ شیخ واجد علی محمد سلطان سوداگرِچرم ١٦شعبان ١٣٣٧ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید شخص مالدار ہے اور سالانہ مد زکوٰۃ میں ہزاروں روپیہ نکال کر مستحقین میں تقسیم کرتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس رقمِ زکوٰۃ سے زید حقیت زمینداری خرید کر اُس کے خالص منافع کو مستقل طور پر مستحقین اور طالبِ علم دینیات کو دے سکتا ہے، کیا اس کے جواز کی کوئی صورت ہے، چونکہ زید اپنے کاروبارِ تجارت کو بہ مقابلہ حقیت زمینداری کے مستحکم نہیں خیال کرتا وُہ چاہتا ہے کہ اس صورت میں ہمیشہ وُہ زکوٰۃ سے مستحقین میں اس کا نفاذ رکھے۔
الجواب:
زکوٰۃ تملیك فقیر ہے، نہ جائداد خرید نے سے ادا ہوسکتی ہے نہ جائداد فقراء پر وقف کردینے سے ہاں اگر وُہ روپیہ کسی فقیر مصرفِ زکوٰۃ کو باجازتِ شرعی دے کر بہ نیتِ زکوٰۃ مالك کردے تو اُس فقیر کی اجازت سے اس کی جائداد خرید کر وقفِ فقراء کرے تو یہ صورت بہت مستحسن ہے اور اُس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ مثلًا دس ہزار روپیہ زکوٰۃ کے دینے ہیں اور چاہتا ہے کہ ان کی جائداد خرید کر وقفِ فقراء کرے توکسی فقیر مصرف زکوٰۃ کے ہاتھ مثلًا سو پچاس روپیہ کا مال دس ہزار روپیہ کو بیچے اور وہ قبول کرلے تو دس ہزار روپیہ اس کو بہ نیتِ زکوٰۃ اور اُس قیمت کے مطالبہ میں واپس لے کر اُن کی جائداد خرید کر وقفِ فقراء کردے، یُوں وقف بھی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع