30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صدیق رضی اﷲتعالیٰ عنہ تمام و کمال اتنا اپنا سارا مال حاضر لائے، ارشاد ہُوا: عیال کے لیے کیا چھوڑا ؟عرض کی: اﷲورسول جل وعلا صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم۔حضور اقدس نے فرمایا: عــــہ۱ بینکما مابین کلتیكما(تم دونوں کے مرتبوں میں وُہ فرق ہے جو تمھاری ان باتوں میں ہے) اگرصاحب عــــہ۲ جائیداد ہے اور اسکی آمدنی خرچ سے زائد ہے تو اس کی آمدنی سے بقدر خرچ رکھ کر باقی کا تصدق مطلقًا افضل ہے، اگر دخل ماہانہ ہے تو ایك مہینہ کا خرچ رکھ کر،اور سالانہ تو ایك سال کا، اس سے زائد کا جمع رکھنا حرص و حُب دنیا سے ناشئی ہوتا ہے ، اور حُبِ دنیا خطا کی جڑ ہے۔صحیحین میں امیر المومنین فاروقِ اعظم رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے ہے:
|
ان رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کان ینفق علیٰ اھلہ نفقۃ سنتھم من ھذاالمال ثم یاخذ مابقی فیجعلہ مجعل مال اﷲ۔[1] |
رسول اﷲصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اسی مال سے اپنے اہل پر سال بھر خرچ کرتے پھر بقیہ کو اﷲکے راہ میں خرچ کردیتے۔(ت) |
رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
الدنیا دار من لادارلہ ولھا یجمع من لاعقل لہ۔[2] رواہ الامام احمد والبیہقی فی الشعب عن ام المومنین الصدیقۃ رضی اﷲتعالیٰ عنہا بسند صحیح۔ |
دنیا بے گھروں کا گھر ہے اور اُس کے لیے احمق ہی جمع کر ےگا۔(اسے امام احمد، بیہقی نے شعب الایمان میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا سے بسندِصحیح روایت کیا ہے۔ت) |
احیاء العلوم شریف میں ہے:
|
ما وراء السنۃ لایدخرلہ الابحکم ضعف القلب فھو غیر واثق بتدبیرالحق فان اسباب الدخل تتکرر بتکرر السنین٣[3]ملخصًا۔ |
سال سے زائد رزق جمع نہ کیا جائے مگر اس صورت میں دل ضعیف ہو اور تدبیر حق کے ساتھ واثق نہ ہو کیونکہ اسبابِ جمع مختلف سالوں کی وجہ سے مختلف ہونگے (ت) |
اور اگر جائداد نہیں رکھتا عیال کے لیے اتنا پس انداز کرنا کہ اگر یہ مرجائے تو وہ اس بقیہ سے منتفع ہوں اور انھیں بھیك مانگنی نہ پڑے افضل ہے۔رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
عــــہ۱: یہاں تك یہ جواب دستیاب ہوا (اس سے آگے عربی جملہ اور اسکا ترجمہ"جواہرالبیان فی سرارالارکان"ص١٠٦میں اسی حدیث کے تحت ملا ہے ) عــــہ۲: یہاں سے سوال مذکور کایہ مختصر جواب ہے ١٢
[1] صحیح البخاری کتاب النفقات ٢/٨٠٦ وکتاب الفرائض٢/٩٩٦وکتاب الاعتصام ٢/١٠٨٦قدیمی کتب خانہ کراچی ،صحیح مسلم، باب حکم الفئی، قدیمی کتب خانہ کراچی، ٢/٨٩ و٩١
[2] صحیح البخاری کتاب النفقات ٢/٨٠٦ وکتاب الفرائض٢/٩٩٦وکتاب الاعتصام ٢/١٠٨٦قدیمی کتب خانہ کراچی ،
[3] احیاء العلوم کتاب التوحید والتوکل بیان احوال المتوکلین مکتبہ ومطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ ٢/٢٧٧
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع