30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضور پُر نور سیّد المتوکّلین صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم اپنے نفس کریم کے لیے کل کا کھانا بچا رکھنا پسند نہ فرماتے۔ ایك بار خادمہ رضی اﷲتعالیٰ عنہما نے پرند کا گوشت کہ آج تناول تو فرمایا تھا بچا ہُوا دوسرے دن حاضر کیا، فرمایا:
|
الم انھك ان ترفعی شیآ لغد، فان اﷲیأتی برزق غدا۔١[1]رواہ ابویعلی بسند صحیح والبیہقی عن انس رضی اﷲتعالیٰ عنہ۔ |
کیا ہم نے منع نہ فرمایا کہ کل کے لیے کچھ اٹھا کرنہ رکھنا کل کی روزی اﷲکل دے گا۔(اسے ابو یعلیٰ نے سند صحیح کے ساتھ اور بیہقی نے حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے۔ت) |
اور اپنی عیال کے لیے مال سال بھر کا قُوت جمع فرمادیتے۔ صحیحین میں امیر المومنین فاروق رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے ہے:
|
کان صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم ینفق منہ (ای مما افاء اﷲعلی رسولہ من اموال بنی النضیر) علی نفقۃ سنۃ ثم یجعل مابقی منہ مجعل مال اﷲ عزوجل۔٢[2] |
رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم اپنے اس(مال فَئے جو اﷲنے بنونضیر کے اموال سے حضور کو عطا کیا تھا) سے سال بھر خرچ کرتے پھر باقی کو جمع کرکے بیت المال میں دے دیتے۔(ت) |
سیزدہم: وہ جس کی عیال میں صورت چہارم کی طرح بے صبرا ہو اور بے شك بہت عوام ایسے نکلیں گے تو اس کےلحاظ سے تو اس پر دوہرا وجوب ہوگا کہ قدر حاجت جمع رکھے ،
|
قال اﷲقوا انفسکم واھلیکم نارا۔٣[3] |
اﷲتعالیٰ کا ارشاد مبارك ہے: اپنے آپ کو اور اپنے اہل کو آگ سے بچاؤ۔(ت) |
چہاردہم: ہاں جس کی سب عیال صابر و متوکل ہوں اسے روا ہوگا کہ سب راہِ خدا میں خرچ کردے۔سیّد عالم صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے ایك بار صدقہ کا حکم فرمایا، امیرالمومنین عمر رضی ا ﷲتعالیٰ عنہ فرماتے ہیں مَیں خوش ہُوا کہ اگرصدیقِ اکبر رضی اﷲتعالیٰ عنہ پر سبقت لے جاؤں گا تو اس بار میرے پاس مال بہت ہے اور ان کے پاس کم۔ فاروق اپنے تمام مال کا نصف حاضر لائے۔ ارشاد ہُوا: عیال کے لیے کیا چھوڑا؟عرض کی: اتنا ہی۔
[1] مسند ابی یعلیٰ از مسند انس بن مالك حدیث ٤٢٠٨ مؤسسۃ علوم القرآن بیروت ٤/١٩٢،شعب ایمان باب التوکل والتسلیم حدیث ١٣٤٨ دارالکتب العلمیہ بیروت ٢/١١٩
[2] صحیح البخاری کتاب النفقات ٢/٨٠٦ وکتاب الفرائض٢/٩٩٦ وکتاب الاعتصام٢/١٠٨٦ قدیمی کتب خانہ کراچی،صحیح مسلم باب حکم الفئی قدیمی کتب خانہ کراچی ٢/٨٩ و٩١
[3] القرآن ٢٦/٦
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع