30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ولا درھما ولا اخبأ رزقا لغد۔١[1] رواہ ابو الشیخ فی الثواب عن ابن عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہما۔ |
جوڑکر رکھتا ہُوں نہ روپیہ، نہ کل کے لے کھانا اٹھاکر رکھوں۔ (اسے ابو الشیخ نے الثواب میں حضرت ابن عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے روایت کیاہے۔ت) |
یہ سب منفرد کا بیان رہا عیالدار،ظاہر ہے کہ وُہ اپنے نفس کے حق میں منفرد ہے، تو خوداپنی ذات کے لیے اُسے اُنھیں احکام کا لحاظ چاہئے اور عیال کی نظر سے اس کی صورتیں اور ہیں ان کابیان کریں۔
دوازدہم : عیال کی کفالت شرع نے اس پر فرض کی، وہ ان کو توکل و تبتل و صبر علی الفاقہ پر مجبور نہیں کرسکتا، اپنی جان کو جتنا چاہے کُسے مگر ان کو خالی چھوڑنا اس پر حرام ہے ۔رسول اﷲصلّی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں :
|
کفی بالمرء اثما ان یضیع من یقوت[2]رواہ الامام احمد وابوداؤد والنسائی والحاکم والبیہقی بسند صحیح عن عبداﷲبن عمرو رضی اﷲ تعالیٰ عنہما و عزاہ فی المقاصد المسلم۔ |
آدمی کو گناہ کافی ہے کہ جس کا قُوت اس کے ذمہ ہے اُسے ضائع چھوڑے۔(اسے امام احمد، ابوداؤد، نسائی ،اور بیہقی نے حضرت عبداﷲبن عمرو رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے بسندِ حسن روایت کیاہے۔ مقاصد میں اس کی نسبت مسلم کی طرف ہے۔(ت) |
حجۃ الاسلام فرماتے ہیں قدس سرہ،:
|
لایجوز تکلیف العیال الصبر علی الجوع فلا یمکنہ فی حقہم ولا توکل المکتسب فاما ترك العیال توکل فی حقھم او القعود عن الاھتمام بامرھم توکلا فھٰذا حرام وقد یفضی الی ھلا کھم ویکون ھومواخذابھم۔[3] (ملخصا) |
عیال کو بُھوك پر قائم رکھنا جائز نہیں اس ان کے حق میں ایسا ممکن نہیں اور اسی طرح کمانے والے کو توکل کرلینا بھی جائز نہیں، عیال کے حق میں توکل کرتے ہُوئے انھیں چھوڑ دینا یاتوکل کرتے ہُوئے ان کے اخراجات کا اہتمام نہ کرتے ہُوئے بیٹھ جانا حرام ہے اور اگر یہ ان کی ہلاکت کا سبب بن گیا تو یہ شخص پکڑا جائے گا۔(ت) |
[1] الترغیب والترھیب بحوالہ ابی الشیخ فی کتاب الثواب کتاب التوبہ والزہد مصطفی البابی مصر ٤/١٨٩
[2] سنن ابی داؤد کتاب الزکوٰۃ باب فی صلۃ الرحم آفتاب عالم پریس لاہور ١/٢٣٨،مسند احمد بن حنبل مروی از عبد اﷲبن عمر و دارا لفکر بیروت ٢/١٦٠، ١٩٤، ١٩٥
[3] احیاء العلوم کتاب التوحید والتوکل مکتبہ ومطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ ٢/٢٧٢
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع