30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوں تو بھول جائیں اللھم انّا نعوذبك من غنی یطغی ومن فقر ینسی(اے اﷲ!ہم تیری پناہ مانگتے ہیں اس غنا سے جو تیرا باغی بنادے اور اس فقر سے جو تجھے بُھلا دے۔ت)
نہم: اگر جمع رکھنے میں اس کا دل متفرق اور مال کے حفظ یا اس کی طرف میلان سے متعلق ہوتو رکھنا ہی افضل ہے کہ اصل مقصود ذکرِ الہیٰ کے لیے فراغ بال ہے جو اُس میں مخل ہو وہی ضم ہے ان ہی دونوں مقاموں کی طرف حضور اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے اُس دُعا میں اشارہ فرمایا جواپنی اُمّت کو تعلیم فرمائی کہ:
|
اللھم ما رزقتنی مما احب فا جعلہ قوۃ لی فیما تحب اللھم وما زویت عنی مما احب فا جعلہ فراغا لی فیما تحب۔[1]رواہ الترمذی عن عبداﷲ بن یزید رضی اﷲتعالیٰ عنہ وحسنہ۔ |
اے اﷲ ! تُو نے جو مجھے میرا پسندیدہ رزق دیا ہے تو اسے اپنے پسندیدہ کاموں میں میرے لیے قوت کا ذریعہ بنادے، اور وُہ پسندیدہ رزق جو تُو نے مجھ سے روك رکھا ہے تو اسے اپنے پسندیدہ کاموں میں میرے لیے ذریعہ فراغت بنادے۔ اسے امام ترمذی نے حضرت عبداﷲبن یزید رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کرکے حسن قرار دیا ہے۔(ت) |
امام حجۃ الاسلام بعد عبارتِ مذکورہ فرماتے ہیں:
|
المقصود اصلاح القلب لیتجرد لذکراﷲ، ورب شخص یشغلہ وجود المال ورب شخص یشغلہ عدمہ، والمحذورما یشغل عن اﷲعزوجل، والا فالدنیا فی عینھا غیر محذورۃ لاوجودھا ولا عدمھا۔٢[2] |
مقصود تو دل کی اصلاح ہے تاکہ وہ ذکرِ الٰہی کے لیے خالی ہوجائے اور بہت سے لوگوں کو مال کا ہونا اﷲتعالیٰ سے غافل کردیتا ہے اور بہت سے لوگوں کو مال کا نہ ہونا غافل کردیتا ہے، اور منع تو وُہ ہے جو اﷲ عزوجل سے غافل کردے ورنہ فی نفسہٖ دنیا کا وجود و عدم ممنوع نہیں۔ (ت) |
دہم: اصحاب نفوس مطمئنہ ہوں،نہ عدم مال سے اُن کا دل پریشان نہ وجودِ مال سے ان کی نظر، وہ مختار ہیں۔ حق سبحانہ اپنے نبی سیّدنا سلیمان علیہ السلام سے فرماتا ہے:
|
ہٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِکْ بِغَیۡرِ حِسَابٍ ﴿۳۹﴾۔٣[3] |
یہ ہماری عطا ہے اب تُو چاہے تو احسان کریا روك رکھ، تجھ پر کچھ حساب نہیں۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع