30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بیشك ہے کہ علمِ دین حمایتِ
دین کے لیے فراغ بال، کسبِ مال میں اشتغال سے لاکھوں درجے افضل ہے معہذا ایك سے دو
اور دوسے چار بھلے ہوتے ہیں،ایك کی نظر کبھی خطا کرے تو دوسرے اسے صواب کی طرف پھیر
دیں گے، ایك کو مرض وغیرہ کے باعث کچھ عذر پیش آئے تو جب اور موجود ہیں کام بند نہ
رہے گا لہذا تعدد علمائے دین کی طرف ضرور حاجت ہے۔
ہفتم: عالم نہیں مگر طلبِ علمِ دین میں مشغول ہے اور کسب میں اشتغال اُس سے
مانع ہوگا تو اس پر بھی اُسی طرح ابقاء و جمع مسطور آکد واہم ہے۔
ہشتم: تین صورتوں میں جمع منع ہُوئی، دو٢میں واجب ، دو٢ میں مؤکد۔ جو ان آٹھ سے خارج ہو، وہ اپنی حالت پر نظر کرے اگر جمع نہ رکھنے میں اس کا قلب پریشان ہو تو جہ بعبادت و ذکرِ الہٰی میں خلل پڑے تو بمعنی مذکور بقدرِ حاجت جمع رکھنا ہی افضل ہے اور اکثر لوگ اسی قسم کے ہیں ع
پراگندہ روزی پرا گندہ دل
(روزی پراگندہ ہوتو دل بھی پراگندہ ہوتاہے۔ت)
؎ شب چو عقد نماز بر بندم چہ خورد بامداد فرزندم
(رات کو نماز میں دل کیا لگے جب یہ پریشانی ہوکہ صبح بچّے کیا کھائیں گے۔ت)
عین العلم میں ہے:
|
یترك المضطرب طریق المتوکل بالادخار لان الغرض صلاح القلب۔[1] |
مضطرب ذخیرہ کے ذریعے متوکل کا طریق ترك کردے کیونکہ مقصد اصلاحِ قلب ہے(ت) |
احیاء العلوم میں ہے:
|
بل لوامسك ضیعۃ یکون دخلھا وافیا بقدر کفایتہ وکان لا یتضرع قلبہ الابہ فذلك لہ اولیٰ۔٢[2] |
بلکہ اگر قدر کفایت کو پُورا کرنیوالی جائیداد کو محفوط کرے جبکہ(عبادت میں ) تضرع اسی سے حاصل رہتا ہے تویہ بہتر ہے۔(ت) |
یہاں وہ لوگ مراد ہیں جن کو توجہ بخدا کا قصد ہے ورنہ منہمکین فی الدنیا تو کسی وقت بھی متوجہ نہیں ہوتے ،غنی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع