30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بقدرہ من الاٰخرۃ[1] (ملخصا) |
میں کمی ہوجائے گی(ملخصًا)(ت) |
زبیدی نے اتحاف السادہ میں فرمایا:
|
وھذا الوجہ ھو اللائق بمقام الصحابۃ رضی اﷲتعالیٰ عنہم کما لا یخفی۔٢[2] |
صحابہ کرام رضی ا ﷲتعالیٰ عنہم کے مقام کے یہی وجہ مناسب ہے ، جیساکہ مخفی نہیں۔(ت) |
سوم: جسے اپنی حالت معلوم ہو کہ حاجت سے زائد جو کچھ بچا کررکھتا ہے نفس اُسے طغیان و عصیان پر حامل ہوتا ، یاکسی معصیت کی عادت پڑی ہے اس میں خرچ کرتا ہے تو اس پر معصیت سے بچنا فرض ہے اور جب اُس کا یہی طریقہ معین ہو کہ باقی مال اپنے پاس نہ رکھے تو اس حالت میں اس پر حاجت سے زائد سب آمدنی کو مصارفِ خیر میں صرف کر دینا لازم ہوگا،
|
وذٰلك لان فقد ان الاٰلۃ احد العصمتین وما تعین طریقا لواجب وجب۔ |
یہ اس لیے کہ ذریعہ کا مفقود ہوجانا بھی عصمت کی ایك صورت ہے اور جو شئی کسی واجب کا ذریعہ بن رہی ہو وہ بھی واجب ہوجاتی ہے۔(ت) |
چہارم: جو ایسا بے صبرا ہوکہ اُسے فاقہ پہنچے تو معاذاﷲ رب عزوجل کی شکایت کرنے لگے اگر چہ صرف دل میں، نہ زبان سے، یا طرق ناجائز مثل سرقہ یا بھیك وغیرہ کا مرتکب ہو، اس پر لازم ہے کہ حاجت کے قدر جمع رکھے، اگر پیشہ ور ہے کہ روزکاروزکھاتا ہے، تو ایك دن کا،اور ملازم ہے کہ ماہوار ملتا ہے یا مکانوں دکانوں کے کرایہ پر بسر ہے کہ مہینہ پیچھے آتا ہے، تو ایك مہینہ کا، اور زمیندار ہے کہ فصل یا سال پر پاتا ہے تو چھ مہینہ یا سال بھر کا، فان درء المفاسد اھم من جلب المصالح(مصالح کے حصول سے مفاسد کا ختم کرنا اہم ہوتا ہے ۔ت) اور اصل ذریعہ معاش مثلًا آلاتِ حرفت یا دکان مکان دیہات بقدر کفایت کا باقی رکھنا تو مطلقًا اس پر لازم ہے۔ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فر ماتے ہیں:
|
من رزق فی شئی فلیلزمہ۔[3]رواہ البیہقی فی شعب الایمان عن انس رضی اﷲتعالیٰ عنہ بسند حسن۔ |
جوشئی کسی کا ذیعہ رزق ہو وُہ اسے لازم پکڑے امام بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت انس رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے بسندِ حسن بیان کیا ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع