30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
افرج عنکم فانطلق فقال یا نبی اﷲ انہ کبر علی اصحابك ھذہ الاٰیۃ فقال ان اﷲلم یفرض الزکوٰۃ الا لیطیب مابقی من اموالکم وانما فرض المواریث لتکون لمن بعد کم قال فکبر عمر رضی اﷲعنہ۔[1] |
تمھاری یہ پریشانی دُور کرتاہُوں، حضور کی خدمت میں حاضر ہُوئے اور عرض کیا : یا نبی اﷲ!اس آیہ مبارکہ نے آپ کے اصحاب کو پریشان کردیا ہے۔ آپ نے فرمایا: اﷲتعالیٰ نے زکوٰۃ فقط اسی لیے فرض فرمائی تاکہ تمھارا باقی مال پاك ہوجائے اور وراثت اس لیے فرض کی ہے تاکہ بعد کےلوگوں کو مال ملے۔ راوی کہتے ہیں حضرت عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہ نے اﷲکی بڑائی بیان کی۔(ت) |
اور یہ اس لیے کہ بیس دینار سے کم پر نہ زکوٰۃ ہے نہ کوئی صدقہ واجبہ۔ لاجرم یہاں استحقاقِ داغ انہی دو٢ وجہ سے ایك پر ہو،
|
قال اﷲ تعالیٰ وَاَوْفُوۡا بِالْعَہۡدِ ۚ اِنَّ الْعَہۡدَکَانَ مَسْـُٔوۡلًا ﴿۳۴﴾ [2]وفی قوت القلوب والترغیب وغیرھما انما کان کذٰلك لانہ ادّخرمع تلبسہ بالفقر ظاہرا و مشارکتہ الفقراء فیما یأتیھم من الصدقۃ۔٣[3] |
اﷲتعالیٰ کافرمان ہے: عہد پُورا کرو عہد کے بارے میں پُوچھا جائے گا۔(ت) قوت القلوب اور ترغیب وغیرہ میں ہے یہ داغ اس لیے ہے کہ ذخیرہ کرنے کے ساتھ اس نے ظاہرًا فقر کا اظہار کیا اور وہ صدقات میں فقراء کے ساتھ شریك ہوگیا۔(ت) |
یہ اُسی تقدیر پر ہے کہ داغ سے مراد عیاذًا باﷲ آتشِ دوزخ میں تپاکر داغ دینا ہو، اور اگر اس سے دھبہ مراد ہویعنی اس کے جمال و نورانیت میں وہ ایسے معلوم ہوں گے جیسے چہرہ پرچیچك وغیرہ کا داغ ، اور جن موردوں کے بارے میں یہ حدیثیں آئیں وہاں بلاشُبہ یہی معنی دوم انسب و اقرب ہیں تو وہ ان دونوں قسموں سے الگ ہیں، امام حجۃ الاسلام نے احیاء میں بعد ذکرِ وجہِ اول فرمایا:
|
الثانی ان لایکون ذٰلك عن تلبیس، فیکون المعنی بہ النقصان عن درجتہ فی الاٰخرۃ اذلا یؤتی احد من الدنیا شیأ الانقص |
دوسرا یہ کہ دھوکا کی بنا پر نہ ہو، اب معنٰی یہ ہوگا کہ آخرت کے درجات میں کمی ہوجائے گی کیونکہ دنیا میں جس کو بھی کچھ دیا گیاہے اس کے عوض آخرت |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع