30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یَّوْمَ یُحْمٰی عَلَیۡہَا فِیۡ نَارِجَہَنَّمَ فَتُکْوٰی بِہَا جِبَاہُہُمْ وَجُنُوۡبُہُمْ وَظُہُوۡرُہُمْ ؕ ہٰذَا مَاکَنَزْتُمْ لِاَنۡفُسِکُمْ فَذُوۡقُوۡا مَاکُنۡتُمْ تَکْنِزُوۡنَ ﴿۳۵﴾ [1] |
بشارت دیجئے کہ جس دن جنہم کی آ گ میں انھیں پگھلایا جائے گا اور ان کی پیشانیوں ،پہلوؤں اور پیٹھیوں کو داغا جائے گا(اور کہا جائے گا) یہ ہے وہ خزانہ جسے تم اپنے لیے جمع کرتے تھے اب اپنے جمع کئے ہوئے کا عذاب چکھو۔(ت) |
و حدیثِ صحیح:
|
من اوکی علی ذھب اوفضۃ ولم ینفقہ فی سبیل اﷲکان جمر ایوم القیامۃ یکوی بہ۔٢[2] رواہ احمد والطبرانی واللفظ لہ کلاھما بسند صحیح عن ابی ذر رضی اﷲتعالیٰ عنہ عن النبی صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم۔ |
جس نے سونا و چاندی جمع کیا اور اسے راہِ خدا میں خرچ نہ کیا وہ رو زِ قیامت اس کے لیے آگ کا انگارہ بن جائے گا اور اس سے مالك داغا جائے گا۔ اسے امام احمد اور طبرانی (الفاظ اسی کے ہیں) نے حضرت ابو ذر رضی اﷲتعالیٰ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم سے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے(ت) |
کا محمل ہے کہ جب زکوٰۃ دے دے حقوق واجبہ شرعیہ اداکردے کنز نہ رہااور سبیل اﷲ میں خرچ نہ کرنا صادق نہ آیا لہذااستحقاقِ داغ نہ رہا،
|
فالبیھقی فی سننہ ابن عمر رضی اﷲتعالیٰ عنھما موقوفا ومرفوعا الی النبی صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کلما ادی زکوٰۃ فلیس بکنز وان کان مدفوناتحت الارض وکلما لا تؤدی زکوٰتہ فھو کنز وان کان ظاہرا[3] ولابی داؤد عن ابن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنھما قال لما نزلت ھذہ الاٰیۃ و الذین یکنزون الذاب والفضۃ کبُرذٰلك علی المسکین فقال عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہ انا |
بیہقی نے سنن میں حضرت ابن عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے موقوفًا اور مرفوعًا نبی اکرم صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم سے بیان کیا، ہر وہ مال جس کی زکوٰۃ دے دی جائے وہ کنز نہیں کہلاتا اگر چہ وہ زمین میں مدفون ہو اور ہر مال جس کی زکوٰۃ نہ دی گئی ہو وُہ کنز ہے اگر چہ ظاہر ہو،ابو داؤد میں حضرت ابن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ جب یہ آیہ کریمہ والذین یکنزون الذہب والفضۃ نازل ہُوئی تومسلمان پریشان ہوئے، حضرت عمر رضی ا ﷲتعالیٰ عنہ نے کہا میں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع