30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور اس کے غیر مقلد ہونے میں شك نہیں وُہ نہ حنفی ہے نہ شافعی نہ مالکی نہ حنبلی کہ کسی مذہب میں ہدیہ تقسیم اغنیاء پرحرام نہیں، ہاں وہ شیطان کا مقلد ہے، جس نے صحابہ کرام کے زمانہ سے اس وقت تك تمام مسلمانوں کو مرتکب حرام واکل حرام، بنانے کا ناپاك وسوسہ اُس کے بے باك دل میں ڈالا،اور غیر مقلد کے پیچھے نماز حرام، بلکہ محض باطل ہے کما حققناہ فی کتابنا المذکور(جیسا ہم نے اپنی کتاب مذکور میں اس کی تحقیق کی ہے۔ت)فتح القدیر میں ہے:
|
الصلٰوۃ خلف اھل الاھواء لاتجوز۔[1]واﷲتعالیٰ اعلم۔ |
اہلِ ہواکے پیچھے نماز جائز نہیں۔(ت) |
مسئلہ ١٥٦: ازکلکتہ کولھوٹولہ ۔اسٹریٹ نمبر ٦٥ مرسلہ حاجی محمد لعل خاں صاحب ، ۲۰ربیع الاول١٣٣١ھ
قبلہ وکعبہ حضرت مولائی مرشدی مدظلہ العالی تمنائے قدم بوسی کے بعد مؤد بانہ گزارش ہے کہ ایك شخص اہل و عیال رکھتا ہے اپنی ماہانہ یا سالانہ آمدنی سے بلا افراط وتفریط اپنے بال بچّوں پر خرچ کر کے بقایا خدا کی راہ میں دیتا ہے آئند ہ کو اہل وعیال کے واسطے کچھ نہیں رکھتا ،دوسری اپنی آمدنی سے بچوں پر ایك حصہ خرچ کرکے دوسرا حصہ خیرات کرتا اور تیسرا حصّہ آئندہ انکی ضرورتوں میں کام آنے کی غرض سے رکھ چھوڑنے کو اچھا جانتا ہے،ان دونوں میں افضل کون ہے؟بینو اتوجروا
الجواب:
حُسنِ نیّت سے دونوں صورتیں محمود ہیں، اور باختلافِ احوال ہر ایك افضل ، کبھی واجب، ولہذا اس بارہ میں احادیث بھی مختلف آئیں اور سلف صالح کا عمل بھی مختلف رہا۔
اقول: وباﷲالتوفیق(میں کہتا ہوں اور توفیق اﷲتعالیٰ سے ہے۔ت)اس میں
قول موجز و جامع اِن شاء
اﷲتعالیٰ یہ ہے کہ آدمی دو۲
قسم ہیں منفرد کہ تنہا ہو اور معیل کہ عیال رکھتا ہو، سوال اگر چہ معیل سے متعلق
ہے مگر ہر معیل اپنے حق نفس میں منفرد اور اس پر اپنے نفس کے لحاظ سے وہی احکام
ہیں جو منفرد پر ہیں،لہذا دونوں کے احکام سے بحث درکار۔
اوّل:وُہ اہلِ انقطاع و تبتل الی اﷲاصحابِ تجرید وتفرید جنھوں نے اپنے رب
سے کچھ نہ رکھنے کا عہد باندھا ان پر اپنے عہد کے سبب ترك ادخارلازم ہوتا ہے اگر
بچارکھیں تو نقضِ عہد ہے اور بعد عہد پھر جمع کرنا ضرور ضعفِ یقین سے ناشئی یا اُس
کا موہم ہوگا، ایسے اگر کچھ بھی ذخیرہ کریں مستحقِ عقاب ہوں،حضور پُر نور سیّد
عالم صلی اﷲتعالیٰ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع