30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور زمانہ رسالت سے علی العموم بلا تخصیص مساکین رائج ہے، ایسا شخص کہ صراحۃً اﷲ و رسول پر افتراء کرتا ہے اور حلالِ خدا کو حرام بتاتا ہے، اگر جاہل بے علم ہے اور اپنے قولِ باطل پر مُصِر ہے تو دو٢ وجہ سے فاسق ہے:
اولا :حلال کو حرام کرنا، دوسرے بے علم فتویٰ دینا، حلال حرام میں زبان کھولنا۔
رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
افتوا بغیر علم فضلوا واضلوا۔[1] رواہ البخاری واحمد ومسلم والتر مذی و ابن ماجۃ عن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما ۔ |
بے علم کہ شرعی حکم لگا بیٹھے تو آ پ بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا ( اسے امام بخاری ،احمد ،مسلم،ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما سے روایت کیا ہے ۔ت) |
نیز حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
من افتی بغیر علم لعنتہ ملٰئکۃ السماء و الارض ۔[2]رواہ ابن عساکر عن امیرالمومنین علی کرم اﷲ وجہہ۔ |
جو بغیر علم کے کوئی حکمِ شرعی بتائے اس پر آسمان و زمین کے فرشتے لعنت کریں(اسے ابن عساکر نے امیرالمومنین حضرت علی کرم اﷲتعالےٰ وجہہ سے روایت کیا۔ت) |
اور فاسق کی امامت مکروہِ تحریمی ہے :
|
کما فی الحجۃ والغنیۃ والتبیین والطحطاوی علی المراقی وغیرھا وقد حققنا فی النھی الاکید۔ |
جیسا کہ حجہ، غنیہ، تبیین اور طحطاوی علی المراقی وغیرہ میں ہے اور ہم نے اپنے رسالہ"النہی الاکید"میں اس پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔(ت) |
اور اگر ذی علم ہے تو اُس کا حکم اور سخت تر ہے کہ وہ دانستہ اﷲ عزو جل پر افتراء کرتا ہے اور اﷲ عزو جل فرماتاہے:
|
اِنَّمَا یَفْتَرِی الْکَذِبَ الَّذِیۡنَ لَا یُؤْمِنُوۡنَ[3] |
جھوٹے افتراء وہی باندھتے ہیں جو ایمان نہیں لاتے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع