30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنۡۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیۡ کُلِّ سُنۡۢبُلَۃٍ مِّائَۃُ حَبَّۃٍؕ وَاللہُ یُضٰعِفُ لِمَنۡ یَّشَآءُؕ وَاللہُ وٰسِعٌ عَلِیۡمٌ﴿۲۶۱﴾ [1]
|
مال اﷲکی راہ میں خرچ کرتے ہیں اُس دانہ کی طرح جس نے اگائیں سات بالیاں، ہر بالی میں سودانے، اور اﷲاس سے بھی زیادہ بڑھائے جس کے لیے چاہے،اور اﷲ وسعت والا علم والا ہے۔(ت) |
درمختار میں ہے :
|
فی سبیل اﷲھو منقطع الغزاۃ وقیل الحاج وقیل طلبۃ العلم خصوصا۔[2] |
فی سبیل اﷲسے مراد وُہ غازی ہیں جن کے پاس خرچہ و اسلحہ نہ ہو، بعض نے کہا حاجی،اور بعض نے کہا اس سے خصوصًا طلبہ علم مراد ہیں(ت) |
جبکہ اس میں حفظِ ہدایت ہو، صحیح حدیث ہے نبی صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
لان یھدی اﷲبك رجلا خیر لك مما طلعت علیك شمس و غربت۔٣[3] واﷲتعالیٰ اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ |
تیری وجہ سے کسی ایك کا ہدایت پاجانا ہر اس شئی سے بہتر ہے جس پر طلوعِ آفتاب ہو۔(ت)واﷲتعالیٰ اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ |
مسئلہ١٥٤: از رامپور چاہ شو مرسلہ مولوی عبدالصمد صاحب ١٨محرم ١٣٢١ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اندریں مسئلہ کہ جو لوگ تندرست و توانگر کھاتے پیتے ہیں انھوں نے اپنا پیشہ گدائی اور فقیری اور محتاجگی کا مقرر کیا ہے اور دربدر شہر بہ شہر بھیك مانگتے سوال کرتے پھرتے ہیں اور ہرگز محنت مزدو ری نہیں کرتے اگر چہ مالدار آسودہ حال ہیں ایسے لوگوں کو بھیك مانگنا اور سوال کرنا حلال ہے یا حرام؟ اور اگر حرام ہے تو دینا بھی بوجہ اعانت علی الحرمۃ، حرام اور ممنوع ہے یا نہیں، جبکہ مسجد میں سوال اور اس عطا کو کتبِ فقہ میں حرام و مکروہ فرمایا گیا ہے۔چنانچہ درمختار میں مرقوم ہے: ویحرم فیہ السوال ویکرہ الاعطاء٤ [4](مسجد میں مانگنا حرام اور دینا مکروہ ہے۔ت) بینوابالکتاب وتوجروابیوم الحساب(کتاب سے بیان کرو اور یومِ حساب اجر پاؤ۔ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع