30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جدا کرکے باقی لائق کفایت بچے یا کوئی حصہ لینے پر راضی نہ ہو، غرض یہ کہ سوائے سوال جمیع اسباب بند ہوں تو بحکم ضرورت بقدرِضرورت سوال حلال،ورنہ حرام ،
|
فان الضرورۃ تبیع المحظو رات وما کان لضر ورۃ تقدرھا۔ واﷲتعالیٰ اعلم۔ |
ضرورت ممنوعات کو مباح کردیتی ہے اور ضرورت کے پیش نظر اتنی ہی مقدار جائز ہوگی(ت)واﷲتعالیٰ اعلم |
مسئلہ ١٥٣: از سرکار مارہرہ مطہرہ از درگاہ مسکین پناہ مسئولہ حضرت سیّد شاہ حامد حسین میاں صاحب قبلہ دامت برکاتہم ١٠شعبان ١٣٢٠ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك صاحب بغرض ثواب ا پنے جائز روپے سے ماہواری یا سالانہ کھانا پکواکر فاتحہ حضور پُر نور سرورِ عالم صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کیا کرتے ہیں اور کھانا مساکین و غیر مساکین کو کھلا دیتے ہیں یا تقسیم کردیتے ہیں ایك طالبعلم حنفی قادری سنّی سیّد کہ جس کی تعلیم دینی بوجہ نہ استطاعت ہونے کے اُس کے ولی کے غیرمکمل رہی جاتی ہو اور علومِ دینی حاصل نہ کرنے کی وجہ سے اُس طالب علم آلِ مصطفیٰ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کے بد عقیدہ ہوجانے کا اندیشہ ہواس صورت میں اگر وہ روپیہ کو جو فاتحہ میں صرف کیا جاتا ہے اگر اس طالب علم کے تعلیم دینی میں بہ نیتِ ثواب فاتحہ حضورصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم صرف کردیا جائے تو بدل اُس فاتحہ سالانہ یا ماہواری کا ہوکر باعثِ خوشنودی سردارِ دو عالم صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم ہوگا یا نہیں اور ثواب میں کمی تو نہ ہوگی؟
الجواب:
یہ اُس کا نعم البدل ہوگا اور ثواب میں کمی کیا معنی، اُس سے ستّر گُنا ثواب کی زیادہ اُمید ہے بطور مذکور کھانا پکاکر کھلانے یا بانٹنے میں ایك کے دس ہیں ۔
|
قال اﷲتعالیٰ مَنۡ جَآءَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِہَا ۚ۔[1] |
اﷲتعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے جو نیکی بجالاتا ہے اس کے لئے اس کی دس مثل ہیں۔(ت) |
اور طالبِ علمِ دین کی اعانت میں کم سے کم ایك کے سات سو۔
|
قال اﷲتعالیٰ مَثَلُ الَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمْوٰلَہُمْ |
اﷲتعالیٰ کا فرمان عالی ہے:انکی کہاوت جو اپنے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع