30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عند الشیخین من حدیث ابن عمر رضی اﷲتعالیٰ عنھما وفی الباب عن ام المومنین الصدیقۃ عند احمد و البیھقی وعن واصل بن الخطاب عند ابی یعلی وعن خالد بن عدی الجھنی عند احمد وابی یعلی والطبرانی وابن حبان والحاکم عن ابی ہریرۃ رضی اﷲتعالیٰ عنہ عند الامام احمد وعن عائذ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنھم عنداحمد والطبرانی والبیھقی وھذا کلھا احادیث قویۃ باسانید جیاد۔ |
حدیث بخاری و مسلم نے حضرت ابن عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے، اور اس بارے میں امام احمد اور بیہقی نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا سے، ابویعلی نے حضرت واصل بن خطاب سے، امام احمد، ابویعلی، طبرانی، ابن حبان اور حاکم نے ۤحضرت خالد بن عدی الجہنی سے، امام احمد نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے، امام احمد، طبرانی اور بیہقی نے حضرت عائذ بن عمر رضی اﷲتعالےٰ عنہم سے روایت کیا ہے، اور یہ تمام احادیث جیّد اسناد کی وجہ سے قوی ہیں۔(ت) |
حدیث میں ہے حضور اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
ماالمعطی من سعۃ بافضل من الاٰخذ اذا کان محتاجا۔١[1] رواہ الطبرانی فی الکبیر عن ابن عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہما وشاہدہ عندہ فی الاوسط کابن حبان فی الضعفاء من حدیث انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ۔واﷲتعالیٰ اعلم۔ |
تونگری سے دینے والا کچھ لینے والے سے افضل نہیں جبکہ وہ حاجت رکھتا ہو(اسے طبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت ابن عمر رضی اﷲتعالیٰ عنھما سے روایت کیا اور اوسط میں ان کے ہاں اس کا شاہد بھی ہے جیسا کہ ابن حبان نے الضعفاء میں حضرت انس رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے حدیث روایت کی ہے۔ت)واﷲتعالیٰ اعلم۔ |
مسئلہ١٥٢: از پکھریرا محلہ نورالحلیم شاہ شریف آباد رائے
پور ضلع مظفر پور مرسلہ شریف الرحمٰن صاحب ٣شعبان ١٣٣٦ھ
زید مالدارچھ سات ہزار روپے یا کچھ کم و بیش کی زمین رکھتا ہے اور اس کو پانچ چھ
سو روپیہ قرض ہے آیا وُہ زمین بیچ کر ادا کرے یا بھیك مانگ کر، شرعًااس کو اس غرض
سے بھیك مانگنا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب :
اگر اس کا ذریعہ رزق اس زمین کے سوا کچھ نہیں، نہ وُہ کسی کسب پر قادر ہے نہ اس زمین کا کوئی حصہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع