30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور کہتے ہیں کہ ہمارے واسطے تم اپنے محلہ یا شہر سے آگاہ کرادو بعض لوگ ان کی باتوں میں آکر ان کی طرف سے لوگوں سے مانگ مانگ کر ان کے واسطے کچھ فراہم کرادیتے ہیں، ایسا شخص جو ایسے لوگوں کے واسطے کوشش کرکے کچھ دلوادے تو بمقتضائے اس حدیث شریف کے الدال علی الخیرکفاعلہ[1] ( بھلائی پر رہنمائی کرنے والاا سے بجالانے والے کی طرح ہوتا ہے۔ت) ثواب پائےگا اور یہ فعل اس کا موجب اجر ہوگایا بحکم وَلَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثْمِ وَالْعُدْوٰنِ ۪[2] (گناہ اور زیادتی پر تعاون نہ کرو۔ت) کے سوال حرام کے معاونت کا مرتکب ہوگا اور ایسے لوگوں کو دینے والا بھی ثواب پائے گا یا نہیں یا گنہگار ہوگا۔بینواتوجروا
الجواب:
بے ضرورتِ شرعی سوال کرنا حرام ہے، اور جن لوگوں نے باوجود قدرت کسب بلاضرورت سوال کرنا اپنا پیشہ کرلیا ہے وہ جو کچھ اس سے جمع کرتے ہیں سب ناپاك و خبیث ہے اور ان کا یہ حال جان کر اُن کے سوال پر کچھ دینا داخل ثواب نہیں بلکہ ناجائز وگناہ، اور گناہ میں مدد کرنا ہے۔ اور جب انھیں دینا نا جائز تو دلانے والا بھی دال علی الخیر نہیں بلکہ دال علی الشر ہے۔ اس مسئلہ کی تفصیل فقیر غفراﷲتعالیٰ نے اپنے مجموعہ فتاوٰی میں ذکر کی، لیکن اگر بے سوال کوئی کچھ دے جیسے لوگ علماء و مشائخ کی خدمت کرتے ہیں تو اس کے لے لینے میں کوئی حرج نہیں بلکہ نیت نیك ہوتو دینے اور لینے والے دونوں داخلِ ثواب ہیں خصوصًا جبکہ لینے والا حاجت رکھتا ہو، سیّد عالم صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے امیرالمومنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲعنہ کو کچھ عطا بھیجی اُنھوں نے واپس حاضر کی کہ حضور نے ہمیں حکم دیا تھا کہ کسی سے کچھ نہ لینے میں بھلائی ہے، فرما یا یہ بحالتِ سوال ہے اور جوبے سوال آئے وُہ تو ایك رزق ہے کہ مولیٰ تعالیٰ نے تجھے بھیجا، امیر المومنین نے عرض کی واﷲ اب کسی سے کچھ سوال نہ کروں گا اور بے سوال جو چیز آئے گی لے لُوں گا،[3]
|
رواہ مالك فی الموطا اصل الحدیث |
اسے موطا میں امام مالك نے روایت کیا ہے اور اصل |
[1] المعجم الکبیر مروی از ابو مسعود الانصاری المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ١٧/٢٨-٢٢٧
[2] القرآن ٥/٢
[3] صحیح البخاری باب من اعطا ہ اﷲ شیئا من غیر مسئلۃ قد یمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۹۹،صحیح مسلم باب جواز الاخذ بغیر سوال الخ قد یمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۳۴،مسند احمد بن حنبل مروی از عمر بن خطاب رضی اﷲ تعالٰی عنہ دارالفکر بیروت ۱ /۴۰،۷۱،مصنف ابن ابی شیبہ کتاب البیوع والاقضیہ حدیث ۲۰۱۶ ادارہ علوم القرآن والعلوم الاسلامیہ ۶ /۵۵۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع