30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
درکار نہیں کما فی جمیع الکتب (جیسا کہ سب کتابوں میں ہے۔ت) واﷲتعالیٰ اعلم۔
مسئلہ ١٣٩: از شہر بریلی محلہ ملوکپور مرسلہ جناب سیّد محمد علی صاحب نائب ناظر فرید پور رمضان المبارك ١٣٢٩ھ صدقہ فطر کی مقدار فی کس کیا ہے؟
الجواب:
تین سوا کاون روپے بھر جَو،یا اُس کے آدھے گیہوں کہ بریلی کی تول سے پونے دوسیر ایك اٹھنی بھر ہُوئی۔ واﷲتعالیٰ اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم احکم۔
مسئلہ ١٤٠: از کمریٹ روٹی گودام چھاؤنی لکھنؤ مرسلہ مولوی سید باسط احمد ٧شوال المکرم ١٣٣٦ھ
(١) وزن فطرہ بحساب سیر لکھنؤکتنا دینا چاہئے؟نصف صاع بوزن سیر لکھنؤ کتنا ہوتا ہے؟
(٢)گز شرعی بہ حساب گز نمبر مروجہ لکھنؤ کس قدر ہے؟
الجواب :
(١)گیہوں کا صاع دوسوستر٢٧٠ تولے ہے کہ انگریزی روپے سے دوسواٹھاسی ٢٨٨ روپے بھر ہوئے۔ نصف صاع کے ایك سوچوالیس ١٤٤ روپے بھر گیہوں۔ لکھنؤکا سیر اسی ٨٠ روپے بھر کا ہے تو اس سے دوسیر ہوئے ، سیر کا ١/٥ یعنی پونے دوسیر سے چار روپے بھر اوپر، لیکن زیادہ احتیاط یہ ہے کہ جَو کے صاع سے گیہوں دئے جائیں جَو کے صاع میں گیہوں تین سوا کاون ٣٥١ روپے بھر آتے ہیں تو نصف صاع ایك سو پچھتر ١٧٥ روپے آٹھ آنے بھر ہوا، لکھنؤ کا سوا دوسیر اٹھنی بھر کم۔
(٢) نمبری گز کہ تین فٹ کا ہے، ہر فٹ بارہ ١٢ انچ ،گز شرعی جسے ذراع کر باس کہتے ہیں، اس کا نصف یعنی آٹھ گرہ کے برابر ہے کہ وہ چوبیس انگل ہے اور ہرگرہ تین انگل۔ واﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ ١٤٢تا١٤٣: از موضع خورد مئو ڈاکخانہ بدو سرائے ضلع بارہ بنکی مرسلہ سید صفدر علی صاحب ١١ شوال ١٣٣٧ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین امورِ ذیل میں:
(١) زید کی بیوی ہندہ جو مالك نصاب نہیں ہے مع اپنے ایك خوردسال بچّے کے اپنے باپ بکر کے یہاں یعنی میکے میں عیدالفطر کو قیام رکھتی ہے تو اُس کا اور اس کے لڑکے کا صدقہ کس کو دینا چاہئے، آیا زید کو جو ہندہ کا شوہر ہے یا بکر کو جو ہندہ کا باپ ہے۔
(٢) اگر کوئی مہمان یہاں ٢٧یا ٢٨ رمضان شریف سے مقیم ہے یا قبل طلوعِ فجر عیدالفطر آیا تو کیا ان مہمانوں کا صدقہ شرعًامیزبان کو ادا کرنا چاہئے یا مہمان اپنا صدقہ خود اد ا کریں؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع