30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(٢) مُردوں کے مال یعنی صدقہ وغیرہ لینا بالامذکور کو جائز ہے یا نہیں؟حالانکہ امام مسجد صاحبِ زکوٰۃ و صاحبِ مال ہو، دیگر امام مسجد کو ہر جمعرات کو برائے تیل کے نقد و تیل منگانااور اپنے ذاتی مصرف میں لانا جائز ہے یانہیں؟قربانیوں کی کھالیں وغیرہ لینا جائز ہے یا نہیں ؟
الجواب:
صاحبِ نصاب کو اگرچہ امام مسجد ہو ،کوئی صدقہ واجبہ مثل زکوٰۃ یا صدقات عیدالفطر یا کفارات جائز نہیں حرام ہے، اور اس کے دئے وُہ زکوٰۃ و صدقہ ادانہ ہوں گے۔ قربانی کی کھال اگرلوگ اپنی خوشی سے دیں لے سکتا ہے مانگ کر اپنا حق قرار دے کر لینا جائز نہیں۔ اموات کی طرف سے جو نفل صدقہ دیا جاتا ہے اگر دینے دینے والے نے اسے فقیر سمجھ کردیا اور اس نے اپنا صاحبِ نصاب ہونا چھپایا تو یہ بھی حرام ہے ورنہ مکروہ و ناپسند۔ تیل وغیرہ کے لیے نقد منگا کر جو بچے اپنے صَرف میں کرنا بھی حرام ہے مگر اس صورت میں کہ دینے والے اس بات سے آگاہ اور اس پر راضی ہوں تو کچھ مضائقہ نہیں۔ بقولہ تعالیٰ عَنۡ تَرَاضٍ مِّنۡکُمْ ۟ [1] ( اﷲتعالیٰ کا فرمان ہے تمھاری رضا مندی سے ہو۔ت)واﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ ١٣٦: از دیوبند ضلع سہارنپور مسجد جامع مرسلہ مولوی اظہرالدین بنگالی ٩ذی القعدہ ١٣٢٢ھ
السّلامُ علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ، کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ جس ملك میں چاول کثرت سے پیدا ہوں اور وہاں کے باشندوں کی غذا چاول ہی ہو اور گندم مطلقًا پیدانہ ہومگر دوسرے ملکوں سے کچھ آتا ہے لیکن وُہ بھی ہرجگہ نہیں ملتا ہے بلکہ شہر و قصبہ میں ملتا ہے اور اس کو کوئی غذا کھاتا بھی نہیں بلکہ دوامی اتفاقًا استعمال میں لاتے ہیں اور جَو بھی بہت قلت طور پر پیدا ہو مثلًا چار پانسو یا ہزار دوہزار بیگھہ میں سے کسی ایك آدھ بیگھہ میں بولیا اور اس کو ستّو بنا کر برس چھ ماہ میں کبھی ناشتہ کے طور پر کھالیتے ہیں اور خرما ناپیدا ہے اور نہ کہیں ملتا ہے، بس ایسے ملك کے باشندوں پر صدقہ فطر نصف صاع گندم کی قیمت میں جس قدر چاول آئے وُہ واجب ہوگا یا ایك صاع چاول واجب ہوگا بینو ابالدلیل جزاکم اﷲالجلیل (دلیل کے ساتھ بیان کیجئے اﷲتعالیٰ آپ کو جزادے۔ت)
الجواب:
شرع مطہر نے یہ صدقہ صرف چار چیزوں سے مقرر فرمایا ہے:گیہوں، جَو، خرما، زبیب۔ ان کے سوا پانچویں کوئی چیز چاول ہو یا دھان یا کپڑا وہ اُنھی میں ایك کی قیمت کے اعتبار سے جائز ہے ورنہ نہیں،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع