30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زکوٰۃ ادا نہیں ہوسکتی، ہاں اعانتِ مسلمین کی نیّت پرثواب پائے گا مگر فرضِ زکوٰۃ سر پر باقی رہے گا وھوتعالیٰ اعلم۔
مسئلہ ١٣٣: از نینی تال مرسلہ شیخ عنایت حسین صاحب ٢٥رمضان المبارک١٣٣١ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ واقعہ کان پور میں مسلمانوں سے دربارہ مسجد پولیس سے فساد ہوگیا، پولیس نے اُنھیں نشانہ بندوق بنالیا، اب ان کے غریب بچّے یتیم ہوگئے اور نادار مسلمان زخمی ہوکر گرفتار کر لیے گئے، اب ان کی رہائی اور پرورش حفاظت جا ن وعزّت کے لیے روپے کی ضرورت ہے، مسلمان چاہتے ہیں کہ صدقہ فطر رمضان المبارك اس کا رِخیر کے متعلق دے دیا جائے عندالشرع دیا جاسکتا ہے یا نہیں؟
الجواب:
صدقہ فطر میں مسلمان فقیر کو دے کر مالك کر دینا شرط ہے، تو اگر غرباء کو دے کر مالك کردیں تو جائز ہے یا فقیر کو دیں اوروُہ اپنی طرف سے مقدمہ میں لگانے کو دے دیں تو جائز ہے، ورنہ مقدمے اٹھانے یا وکیلوں کو دینے سے صدقہ ادا نہ ہوگا۔ درمختار میں ہے:
|
صدقۃ الفطر کالزکوٰۃ فی المصارف وفی کل حال۔ [1] |
صدقہ فطر مصارف اور تمام احوال میں زکوٰہ کی طرح ہے۔ (ت) |
ردالمختار میں ہے :
|
من اشتراط النیۃ واشتراط التملیلك فلا تکفی الاباحۃ کمافی البدائع۔[2] واﷲتعالیٰ اعلم وعلمہ اتم واحکم۔ |
یعنی نیت اور تملیك دونوں شرائط ہیں تو محض اباحت کفایت نہ کرے گی کما فی البدائع۔(ت) |
مسئلہ١٣٤تا١٣٥: از راولپنڈی لال کرتی مرسلہ دین محمد صاحب فروش ٢١ رمضان المبارك ١٣٣٣ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
(١)صدقہ فطر لینا امام مسجد کو جائز ہے یانہیں ؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع