30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ورنہ حاش ﷲان کی جلیل شانیں اس سے بس ارفع ہیں کہ بامعاون و تدبر شرح آثار پر نظر فرماتے اور اس کی عبارت کے یہ معنی ٹھہراتے، علامہ زین نجیم مصری بحرالرائق میں فرماتے ہیں:
|
قدیقع کثیر ا ان مولفایذکر شیأ خطا فی کتابہ فیأتی من بعدہ من المشائخ فینقلون تلك العبارۃ من غیر تغییر فیکثرالناقلون لھاواصلھا الواحد مخطی الخ[1] |
بہت دفعہ ایسا ہوجاتا ہے کہ ایك مصنف اپنی کتاب میں خطا کرتا ہے توبعد کے مشائخ اسے بغیر کسی تبدیلی کے نقل کردیتے ہیں، ناقلین کثیر ہوجاتے ہیں حالانکہ اصل خطا کرنے والا ایك ہی تھاالخ(ت) |
مشتغل علم اگر چہ میری اس طویل تقریر کو بالکل گوش نا آشنا پائے گا مگر امید کرتاہُوں کہ ان شاء اﷲتعالیٰ اس مقام کی تنقیحِ جمیل و تنقیدِجلیل برکات علماء سے اس بے بضاعت کا حصہ تھا ع
وللارض من کاس الکرام نصیب (زمین کے لیے بھی سخیوں کے دسترخوان سے حصّہ ہوتاہے)
|
فتبصر وتشکر و الحمد ﷲالاکبر، وانما اطلنا الکلام فی ھذاالمقام لما بلغنا عن بعض علماء العصر من اجلۃ رامفور من اباحۃ الزکوٰۃ لحضرات الاشراف اغترارا بتلك الروایۃ وذاك الاختیار، وماالعصمۃ الاباﷲالعزیز الغفار۔ |
غور کر، شکرکر،حمد اﷲکے لیے جو سب سے بڑا ہے۔ ہم نے اس مقام پر خوب طویل گفتگو اس لیے کی ہے کہ بعض معاصرین علمائے رامپور نے اس روایت کی بنا پر غلط فہمی کاشکار سادات کرام کے لیے زکوٰۃ کو مباح قرار دیا ہے، عصمت اﷲ غالب غفار کے لیے ہی ہے(ت) |
غرض میں جزم کرتا ہُوں کہ بے شك بنی ہاشم پر زکوٰۃ حرام ہے اور بیشك اسی پر افتاء واجب اور بیشك اس سے عدول ناجائز ، اور بے شك وہ روایت روایۃً مرجوح اور درایۃً مجروح اور بیشك امام طحاوی اس کے خلاف پر قاطع، اور بے شك اُن کی تصحیح جانب ظاہر الروایۃ راجع، والی اﷲالرجعی والیہ مناب (اﷲ ہی کی طرف لوٹنا ہے اور وہی ماوٰی وملجا ہے ۔ت ) واﷲ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب۔
مسئلہ ١٢٩: مرسلہ مولوی حافظ محمد امیر اﷲصاحب ٢ جمادی الاولیٰ ١٣٠٦ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زکوٰۃ احوج کو دینا اولیٰ ہے خصوصًا جو احوج اپنا قریب ہو یہ حکم مطلق ہے مثلًا بنی ہاشم اپنے اقارب احو جین کو زکوٰۃ دیں یا یہ مخصوص ہیں بوجہ حدیث:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع