30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس طریقہ انیقہ صاحبین سے آتی ہیں۔ یہ مجموع اٹھارہ باتیں تو اس نفس عبارت میں ہیں جن کے بعد ان شاء اﷲتعالیٰ وضوحِ حقیقۃ الامر میں اصلًا مجالِ کلام نہیں اس کے سوا بعض دلائل قاہرہ وباہرہ اسی شرح معانی الآثار کے دوسرے مقام سے سُنیے جس سے یہ بھی ثابت ہُوا کہ امام طحاوی اُس روایت مردودہ کے اصل مبنی یعنی بنی ہاشم کے لیے خمس الخمس عوض صدقات ہونے ہی کا بہ نہایت شدومد انکارِ بلیغ فرماتے ہیں کتاب وجوہ الفیئ وخمس المغانم میں ایك قول فرمایاکہ بعض کے نزدیك آیہ کریمہ میں ذوی القربیٰ سے صرف بنی ہاشم مراد ہیں کہ اﷲتعالیٰ نے جبکہ ان پر صدقہ حرام کیا یہ خمس کا حصہ اس کا عوض دیا، پھر اس کا رَد فرماتے ہیں کہ:
|
ان قولھم ھذا عندنا فاسد لان رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم لما حرمت الصدقۃعلی بنی ہاشم قد حرمھا علی موالیھم کتحریمہ ایاھا علیہم وتواترت عنہ الاٰثار بذٰلک۔[1] |
علماء کا قول ہے کہ یہ ہمارے نزدیك فاسد ہے کیونکہ رسول اﷲصلی اﷲتعالےٰ علیہ وسلم نے جب صدقہ بنو ہاشم پر حرام فرمایا تو آ پ نے ان کے غلاموں پر بھی اسی طرح حرام فرمایا جس طرح بنو ہاشم پر حرام ہے اور اس پر آپ سے متو اتر آثار ہیں۔(ت) |
پھر احادیث ابن عباس وابو رافع و ہرمزیاکیسان رضی اﷲتعالیٰ عنہم ذکر کر کے فرمایا:
|
فلما کانت الصدقۃ المحرمۃ علیٰ بنی ھاشم قد دخل فیھم موالیھم ولم یدخل موالیھم معھم فی سھم ذوی القربی باتفاق المسلمین ثبت بذٰلك فساد قول من قال انما جعلت لذی القربیٰ فی اٰیۃ الفیئ وفی اٰیۃ خمس الغنیمۃ بدلا مما حرم علیہم الصدقۃ۔٢[2] |
صدقہ کی حرمت میں بنوہاشم کے ساتھ ان کے غلام بھی شامل تو ہیں مگر ذوی القربیٰ کے حصّہ میں بالاتفاق بنو ہاشم کے ساتھ شامل نہیں اس سے ان لوگوں کے قول کا فساد واضح ہوگیا جو کہتے ہیں کہ ایك آیت فیئ اور آیت خمسِ غنیمت میں جو کچھ حضور کے رشتہ داروں کے لیے مقرر کیا گیا یہ اس صدقہ کے عوض ہے جو اُن پر حرام کردیا گیا ہے (ت) |
پھر دوسری دلیل نظری سے اس عوض ہونے کا فساد ثابت کرکے فرمایا:
|
فدل ذٰلك ان سھم ذوی القربیٰ لم یجعل لمن لہ خلفا من الصدقۃ التی |
یہ اس پر دال ہے کہ ذوی القربیٰ کا حصہ جن لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا ہے وہ ان پر حرام کردہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع