30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دہم: جو بنی ہاشم کے لیے جوازمانے اور موالی پر حرام جانے، حدیث ابورافع ہرگز اس کے لیے حجت نہیں بلکہ صاف اس پر منقلب ہے کہ اُس میں مولائے قوم کو حکم قوم میں فرماتے ہیں جب حکم قوم جواز ہے حکم مولیٰ بھی لاجرم جواز ہوگا ورنہ موالی بالذات مستحق تحریم نہیں تو برتقدیر اختیار جواز امام طحاوی کا یہ استدلال بالمخالف ٹھہرتا ہے۔
یازدہم : طرفہ یہ کہ فرماتے ہیں امام ابو یوسف نے مولیٰ پر زکوٰۃ ناروامانی اور ہمیں اپنے باقی ائمہ سے اسکا خلاف معلوم نہیں، خلاف تو بنابنایا پیشِ نظر ہے کہ جس روایت میں خود بنی ہاشم کو زکوٰۃ روا ہوئی، مولیٰ کے لیے بدرجہ اولیٰ ہوئی، تو لاجرم وہ اس روایت کو نظر سے ساقط اور ناقابلِ اعتداد جانتے ہیں، جب تو علم خلاف کی نفی فرماتے ہیں۔
دوازدہم :اس کے بعد دوسرا سوال قائم کرتے ہیں کہ بھلا تمھارے نزدیك بنی ہاشم کا تحصیلِ زکوٰۃ پر متعین ہو کر اس کی اجرت لینا بھی جائز ہے یا نہیں۔ سبحان اﷲ! جب حقیقت زکوٰۃ انھیں جائز کرچکے تو شبہ زکوٰۃ میں کلام کا کیا موقع رہا، اگر امام طحاوی کی وہی مراد ہوتی تو میں ان دونوں سوالوں کی مثال اس سے بہتر نہیں جانتا کہ عالم شافعی المذہب کہے میرے نزدیك بنت الفجور سے نکاح حلال ہے زید پُوچھے بھلا اس کی دختر رضاعی بھی حلال جانتے ہویا نہیں، یا وہ کہے میرے نزدیك زنا موجب حرمت مصاہرت نہیں، زید پوچھے بھلا بے نکاح مس میں کیاکہتے ہو۔
یہ چھ دلائل جلائل سیاق میں تھے، اب نفس عبارت پر نظر کیجئے کہ ا س کی شہادت سب سے اتم واکمل و قاطع جدل ہے۔ امام طحاوی نے بنی ہاشم پر مطلق صدقات کی حرمت ثابت کرکے فرمایا: یہ امام ابو حنیفہ و امام ابو یوسف و امام محمد کا مذہب یعنی ان سے ظاہر الروایۃ ہے کہ قول نہیں کہتے مگر ظاہر الروایۃ کو، پھر امام سے اختلاف روایت ذکر کیا اور اول بلفظ روی عنہ کہ صریح ضعفِ روایت پر دلیل ہے وہ روایتِ شاذہ بلا سند ذکر کی پھر بسند متصل نقل کیا کہ امام کا قول مثل قول امام ابو یوسف ہے اور اس پر فرمایا فبھذا ناخذ۔اب دیکھ لیجئے کہ امامِ طحاوی نے امام ابو یوسف کا کیا مذہب بیان فرمایا تھا جس پر حوالہ کرتے ہیں کہ ہمیں اس سند کے ساتھ امام سے اسی مذہب ابو یوسف کے مطابق پہنچا، آخر وُہ نہ تھا مگر اطلاق تحریم ،تو قطعًا اسی کو بھذا نا خذ فرما رہے ہیں،یہ تو یقینًا معلوم کہ اوپر امام ابو یوسف کا کوئی قول نہ گزرا مگرتحریم، اور یہ بھی نہایت واضح و جلی کہ حوالہ نہیں کرتے ، مگر امر مذکور پر لاجرم ماننا ہوگاکہ اختلافِ روایت بتا کر پہلے لفظ روی عنہ روایت ابوعصمہ روایت کی پھر وحدثنی (مجھے بیان کیا۔ ت)سے مذہب تحریم کہ اصول اسی طریق محمد عن ابی یوسف عن ابی حنیفۃ (امام محمد نے امام ابو یوسف سے انھوں نے امام ابو حنیفہ رحمہم اﷲتعالیٰ سے روایت کیا ۔ت)سے مروی رنگ اسناد دیا اور اسی کو بھذا ناخذ ( اسی پر عمل ہے۔ت) سے مذیل کیا، اب سارابیان اوّل سے آخر تک
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع