30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اول:شروع سخن سے دلائل تحلیل کارد۔
دوم:دلائل تحریم کی تکثیر میں کد ۔
سوم: اُن کا آغاز یُوں کہ نبی صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم سے تحریم میں متواتر حدیثیں آئیں ۔
چہارم: ختم یُوں کہ ہمارے علم میں ان حدیثوں کا کوئی ناسخ یا عارض نہیں سواان چیزوں کے جو اہل تحلیل نے ذکر کیں اور وُہ اصلًا اُن کی مؤید نہیں۔
پنجم:حدیثًا وفقہًا ثابت فرمانا کہ نہ صرف زکوٰۃ یا دیگر واجبات بلکہ مطلقًا تمام صدقات بنی ہاشم پر حرام ہیں یہاں تك کہ نافلہ بھی، اور یہی مذہب ائمہ ثلاثہ کا ہے۔
ششم: صاف صاف حصر فرما دینا کہ اسباب میں یہی مقتضائے نظر فقہی ہے، اب روایت خلاف کے لیے کہاں گنجائش رکھی، حدیثیں بے ناسخ و معارض متواتر نظر فقہی اسی میں منحصر، پھر اختیار خلاف کس دلیل سے صادر۔ یہ چھ قرینے تو سباق میں ہیں اب سیاق کی طرف چلئے کہ دلائل دیکھئے۔
ہفتم:روایت کے اختلاف اور اپنے اختیار کو ذکر کرکے بایرادفائے تعقیب سوال قائم فرماتے ہیں کہ اس پر کوئی مجھ سے پُوچھے بھلا بنی ہاشم کے غلامان آزاد شدہ کے لیے اخذ زکوٰۃ ممنوع جانتے ہو، سبحان اﷲ اگر اس بہ ناخذ( اسی پر ہمارا عمل ہے۔ ت) کے معنی یہی تھے کہ امام طحاوی نے خود بنی ہاشم کو زکوٰۃ حلال مانی تو اب اس سوال کا کون ساموقع اورکیا محل تھا، موالی تو اس فرعیت کی بناء پر داخل ہوئے تھے کہ مولی القوم منھم (کسی قوم کا غلام اُنہی میں سے ہوتاہے۔ت)جب اصول کے لیے جواز ٹھہرا فروع کی نسبت کیا پوچھتا رہا۔
ہشتم: اس سوال کا جواب سُنئے کہ میں فرماؤں گا ہاں یعنی میرے نزدیك موالی بنی ہاشم کو اخذِ زکوٰۃ ممنوع ہے کہ حدیث ابو رافع اسی پر ناطق اور ارشاد امام ابی یوسف موافق اور بقیہ ائمہ سے خلاف نامعلوم، سُبحان اﷲ کہاں بنی ہاشم کے لیے زکوٰۃ جائز ماننا اور کہاں اُن کے غلاموں پر حرام جاننا۔
نہم : پھر حدیث ابو رافع تو یونہی تھی کہ:
|
ان اٰل محمد لا یحل لھم الصدقۃ وان مولی القوم من انفسھم۔[1] |
آلِ محمد (صلی ا ﷲتعالیٰ علیہ وسلم) کے لیے صدقہ حلال نہیں اور قوم کا غلام اُنھی میں سے ہوتا ہے(ت) |
کیا معنی کہ حدیث کا فرعی حکم اس وجہ سے کہ حدیث وارد ہے اخذ فرمائیں اور اسی حدیث کا اصلی حکم جس پر اس کے ساتھ اور احادیث متواترہ بھی ناطق ترك کرجائیں فافہم ولاتعجل۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع